صرف چاغی نہیں پگھلا تھا.

صرف چاغی نہیں پگھلا تھا.


28 مئی 1998
صرف چاغی نہیں پگھلا تھا
کئی دشمنوں کے دل دہل گئے تھے
آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گیئں
اور کئی کو غشی کے دورے پڑ نے لگے
امریکہ نے تو فورآ پابندیوں کا سوچا
اور کئی ملکوں نے معاشی بائیکاٹ کا
ناداں کیا سمجھتے تھے،۔۔۔۔۔:)
ہمارا رازق خود کو،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
ہونہہ ،۔


ہمارا رازق تو اللہ ہے جو پتھر میں کیڑے کو پالتا ہے
جو یونس علیہ االسلام کو مچھلی کے پیٹ میں پالتا ہے
جو شعب ابی طالب کی گھاٹی میں بنی ہاشم کو 3 سال تک کھلاتا ہے!!
کیا سمجھتے ہیں؟؟ دنیا کی قوت خود کو،۔۔۔
ہمارا بس تو اللہ ہے
ہمارا حافظ و ناصر تو اللہ ہے
جو آگ میں ابراہیم کو، فرعون سے موسی کو، چھری سے اسماعیل کو
طوفان سے نوح کو، صلیب سے عیسی کو اور
اندھے کنویں میں یوسف کو بچاتا ہے،۔۔۔
وہ المحی، الممیت ہے، جو کئی سو سالوں تک اصحاب کہف کی نگرانی کرتا ہے
اور انہیں موت کے بعد زندگی عطا کرتا ہے
جو تمہارے ہی ملکوں میں کبھی سونامی لاتا ہے
کبھی ہوائیں چلاتا ، کبھی زمیں کو ہلاتا ہے،۔۔۔۔

جو 67 سال سے ہمیں پال رہا ہے
جو ہمیں 34 ممالک کی فوجوں خفیہ اداروں اور شیطانی مثلث سے مسلسل برسرپیکار رہنے کی قوت فراہم کر رہا ہے،۔۔۔۔
میرا رب الصمد ہے،۔۔۔
جو تمہاری ہر چال ناکام بنا رہا ہے۔تمہاری سازشیں تمہی پر لوٹا رہا ہے
دشمنو !!
گواہ رہنا،۔۔۔ اللہ ہمیشہ ہمارا پاسباں رہا ہے،۔۔۔۔
اللہ اکبر
یوم تکبیر مبارک،۔۔۔۔


تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

0 comments:

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار