امریکہ کل اور آج

امریکہ کل اور آج

کل
کچھ دن پہلے امریکی صدرنے اعلان کیا کہ 2014 کے بعد 9،800 امریکی فوجی 2 سال کیلئے افغانستان رہیں گے.
۔ماضی میں امریکہ کو ویت نام کا تجربہ ہے۔۔۔۔
ہوا یوں تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔
30 نومبر 1972 کے دن امریکی فوج کا انخلاء ویتنام سےمکمل ہوا تھا۔ 
16،000 امریکی فوجی ایڈوائزر جنوبی ویتنام کی کٹھ پتلی کی مدد کیلئے ویتنام میں رکھی گئی۔ یہ صرف شکست کو چھپانے کا حربہ تھا۔ 


جنگ چلتی رہی یہاں تک کہ 29مئی 1975 کو شمالی ویتنام کے حریت پسندوں کے حملوں کی تاب نہ لاتے ہوئے، 7،000 امریکی اور پٹھو فوج نے راہ فرار اختیار کی، جسے امریکی صدر نے Operation Frequent Wind کا نام دیا۔

سایگاں سے ساوتھ چائنا سی میں کھڑے امریکی ائرکرافٹ کیرئر تک امریکی ہیلی کاپٹر کا پُل بندھ گیا۔ 
یہ کُلی انخلاء تھا۔ ائرکرافٹ کیرئر میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے لاتعداد ہیلی کاپٹر سمندر میں دھکیلے گئے۔

 سایگاں سے آخری بھاگنے والا شخص امریکی سفیر تھا۔ یہ 30مئی صبح تقریباً 8 بجے ہیلی کاپٹر سے بھاگا، اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہیلی نے امریکی سفارت خانے کی چھت سے پرواز کی۔
 دوپہر 12 بجے شمالی ویت نام کےحریت پسند نے سایگاں فتح کرلیا۔
آج
دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ کا افغانستان نے کُلی انخلاء کیسے ہوتا ہے۔ ویسے دو باتوں کا دھیان رہے ۔ 11/9 سے پہلے شیخ اسامہ نے (غالباً رابرٹ فسک کو )ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا،"امریکہ کا جس دن ابنائے حرمین سے پالا پڑے گا ، وہ ویت نام بھول جائے گا"۔ افغانستان میں امریکی قبضہ مکمل ہونے کے بعد VOA
کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے مُلا عمر نے کہا تھا،"میری بات یاد رکھنا، اس جنگ کا اختتام امریکہ کی رسوائی پہ ہوگا، امریکہ افغانستان کی خاک چاٹ کر نکلے گا"۔ اُس وقت تو یہ دونوں باتیں دیوانے کی بڑ لگتی تھی۔
سابق فرانسسی صدر چارلس ڈیگال مدبر تھا، امریکی نفسیات خوب پہچانتا تھا۔ انہوں نے کہا تھا۔ 
You may be sure that the Americans will commit all the stupidities they can think of, plus some that are beyond imagination.

تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

0 comments:

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار