پاکستان میں گرے ٹریفک کا ناسور اور حکومت کی کامیابی۔

پاکستان میں گرے ٹریفک کا ناسور اور حکومت کی کامیابی۔


  • سب ہے پہلے ہم اس بات پر نظر ثانی کرتے ہیں کہ گرے ٹریفک ہے کیا؟

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق بیرون ملک سے پاکستان کی جانیوالی ٹیلیفون کالز میں سے ۴۰ فیصد کالز غیر قانونی نیٹ ورک کے ذریعے صارفین کو موصول ہوتی ہیں۔ اس غیر قانونی مواصلاتی نظام کو ’’گرے ٹریفک‘‘ کہا جاتا ہے

اس کے بعد یہ سوال آتا ہے کہ اس سے ہماری معشیت کو کیا نقصان ہے؟

گرے ٹریفک اور اس نوعیت کے نیٹ ورک چلانے والے ادارے حکومت کو کسی قسم ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ وطن عزیز کی بدعنوانی اور لوٹ کھسوٹ میں گھری ہوئی معیشت کو گرے ٹریفکنگ کی مد میں سالانہ ساڑھے پانچ ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، جبکہ بعض سرکاری افسران کا دعویٰ ہے کہ اس غیر قانونی دھندے میں لائسنس ہولڈرز بھی ملوث ہیں۔

کسی بھی موبائل فون نیٹ ورک کے آپریشن، مرمت یا آپٹمائزیشن کے عمل کے دوران بیشتر اوقات موبائل کالز کے ٹریفک میں اتار چڑھاؤ اور کمی بیشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ٹریفک ظاہر کرتا ہے کہ موبائل صارفین کی جانب سے نیٹ ورک کا کس قدر استعمال کیا جا رہا ہے۔ جب کوئی کال کنیکٹ ہوتی ہے اور اس کا جواب دیا جاتا ہے تو بلنگ کا آغاز ہوجاتا ہے۔
فون ٹریفک کو ’’ارلانگ‘‘ نامی یونٹ سے ناپا جاتا ہے، جو دراصل ڈنمارک کے ریاضی دان ایگنر کراروپ ارلانگ سے موسوم ہے۔ نیٹ ورک پر بڑھتے ہوئے ٹریفک کو ہمیشہ ایک اچھی پیشرفت تصور کیا جاتا ہے، جو اشارہ دیتا ہے کہ مزید صارفین نیٹ ورک کو استعمال کر رہے ہیں جس کے نتیجہ میں آمدنی حاصل ہو رہی ہے۔ بعض اوقات جب کوئی سیاسی جلسہ، صوفی بزرگ کا عرس یا صرف کوئی عام اجتماع ہو تو اس مقام پر موبائل ٹریفک میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ موبائل آپریٹرز ایسے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے صارفین تک نیٹ ورک کی ہموار رسائی فراہم کرنے کے لئے ضروری اقدامات اٹھاتے ہیں۔
کبھی کبھار یوں بھی ہوتا ہے کہ کسی مخصوص علاقے میں موبائل ٹریفک کسی تقریب کے بغیر ہی بڑھ جاتی ہے، جس پر تفصیلی تحقیقات کے بعد انکشاف ہوتا ہے کہ اس مقام پر ٹریفک بڑھنے کے باوجود آمدنی میں اضافہ نہیں ہوا۔ دیگر الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ موبائل صارفین موبائل آپریٹر کا نیٹ ورک تو استعمال کر رہے ہیں لیکن مرکزی نیٹ ورک کو کامیابی سے بائے پاس کر کے، یعنی بلنگ اور راؤٹنگ کو چکمہ دے کر۔ یہ کام راؤٹرز، سوئچز اور ایکسچینجز کی مدد سے کیا جاتا ہے جو کہ جی ایس ایم سم کارڈز ڈالنے پر کالز کا روٹ تبدیل کر سکتے ہیں۔
سم کارڈز کے ذریعے موبائل کالز کو روٹ کرنے کا ایک روایتی طریقہ کال کو لینڈلائن سے موبائل یا پھر موبائل سے موبائل پر منتقل کردیتا ہے، جس سے خرچ میں نصف سے بھی زیادہ کمی آجاتی ہے۔ دنیا بھر میں جی ایس ایم گیٹ ویز مختلف حجم اور زبانوں میں دستیاب ہیں، زبانوں سے مراد ہے آئی ایس ڈی این ای یا آئی ایس ڈی این ای ۲، پی آر آئی، اینا لوگ اور وی او آئی پی بشمول ایچ ۳۲۳ اور ایس آئی پی، جن کا انتخاب اسے استعمال کرنیوالے کی ضرورت پر منحصر ہے۔ مثال کے طور پر ایک عام ۲ افراد کی کمپنی کے لئے ایسے اینالوگ ڈیوائس کی ضرورت ہوگی جسے اینالوگ لائن، جیسا کہ گھر کے فون وغیرہ سے منسلک کیا جاسکے گا۔
بلاشبہ یہ ایک کام غیر قانونی ہے اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ایسے اقدامات اٹھانے والوں کی تلاش اور ان کے کام کو بند کرنے کے لئے بہت متحرک رہی ہے۔ غیر قانونی جی ایس ایم گیٹ ویز پر ایسے چھاپوں کے انتظامات این آر تھری سی کی جانب سے کئے جاتے ہیں جبکہ این آر تھری سی اور پی ٹی اے اب تک مشترکہ طور پر ۹ غیر قانونی جی ایس ایم گیٹ ویز پر چھاپے مار کر آلات قبضے میں لے چکے ہیں، البتہ ہمارے یہاں میں غیر قانونی موبائل ٹریفک کے حجم کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کامیابی اس کے عشر عشیر بھی نہیں۔


اگرآپ کوبیرون ملک سے آنے والی کال لوکل موبائل ، وائرلیس یا لینڈلائن نمبرظاہرکرے تواس نمبرکو8866 پرمفت ایس ایم ایس یا080055055 مفت کال کرکے 
Grey Traffic کے خلاف پی ٹی اے کاساتھ دیں۔

بین الاقوامی سطح پر اس معاملے سے نمٹنے کے لئے عالمی سیلولر کمیونٹی نے مل کر جی ایس ایم اے فراڈ فورم تخلیق کیا ہے۔ سی ایف سی اے کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق سالانہ تقریباً ۱ء۴۰ ارب امریکی ڈالرز ایسے فراڈز کے باعث ہاتھوں ضائع ہو جاتے ہیں۔ غیر قانونی گیٹ وے کے خلاف قدم نہ اٹھانے والے سیلولر آپریٹرز نہ صرف مسلسل اور حتمی طور پر اپنی آمدنی گنوا رہے ہیں بلکہ یہ سست روی صارفین کو بھی منفی طور پر متاثر کر رہی ہے۔
سیلولر آپریٹرز غیر قانونی جی ایس ایم گیٹ وے کے خلاف کوئی قدم اٹھانے میں ناکام کیوں رہتے ہیں؟ اس بارے میں جی ایس ایم اے فورم کا کہنا ہے کہ سب سے اہم عنصر کئی موبائل آپریٹرز کی فراڈ اور اس کی زد میں آنے کی اہمیت سے عدم آگہی ہے، جو ایسے غیر قانونی افراد کی موجودگی کا سب سے اہم سبب ہے۔ بہت سے سیلولر آپریٹرز اس بات کو ماننا ہی نہیں چاہتے کہ ان کے نیٹ ورک کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے، جبکہ یہ مفروضہ ان کی مکمل غفلت اور موبائل فراڈ کی صورتحال کے بارے میں بہتر سوجھ بوجھ کی ضرورت کو ظاہر کررہی ہے۔
ماہرین کے مطابق غیر قانونی گیٹ وے ایکسچینج عموماً وہاں پائے جاتے ہیں جہاں مقامی اور بین الاقوامی کال نرخوں میں واضع فرق موجود ہو، جبکہ دنیا کے متعدد ممالک میں مقامی اور بین الاقوامی کال نرخوں میں اتنا فرق نہیں کہ غیر قانونی جی ایس ایم گیٹ وے ایکسچینج کرنے والے کوئی فائدہ اٹھا سکیں۔ ایسے ممالک میں سنگاپور اور امریکہ سرفہرست ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی ٹیلی فون ایکسچینجز کے ذریعے مواصلاتی رابطے کی روک تھام کے لئے جلد ہی مؤثر نگرانی کا جدید نظام ’’انٹرنیشنل کلیئرنگ ہاؤس‘‘ متعارف کروادیا جائیگا، جس کے نتیجہ میں حکومت کو سالانہ تقریباً ایک ارب ڈالر آمدنی حاصل ہو سکے گی۔


تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

0 comments:

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار