سچی عید

سچی عید
وہ آج بہت خوش تھی، ہوتی بھی کیوں نہ آج وہ چار عیدوں کے بعد پہلی عید مناتے گھر پر آ رہا تھا۔ بار بار اسکے کانوں میں یہ آواز گونجتی "اس بار پکا آؤں گا نا! میں نے اپنے افسر سے بات کی ہے۔"
وہ مختلف انواع و اقسام کے پکوان بناتی جا رہی تھی اچانک کچھ خیالوں میں جا کھوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ماں ابو کہاں ہیں؟" ننھے اشعر نے حسرت بھری آواز میں کہا۔
"بیٹا تیرے ابو بلند پرواز پر ہیں" اس نے بیٹے کا ماتھا چومتے ہوئے جواب دیا۔
"کیا ماں جہاز میں ہم اللّٰہ میاں سے مل سکتے ہیں۔" بچہ معصومیت سے بولا۔
"نہیں بیٹا ایسے نہیں، پر ایک دن وہ خود بلا لیتا ہے۔" ماں نے جواب دیا۔
"کیسے امی؟"
"تمہیں بھوک نہیں لگی میں نے تیرے لئے شیر خرما بنایا ہے" ماں نے اسکا دھیان بٹاتے ہوئے کہا۔
شیر خرمے کا نام سننا تھا کہ بچہ جھٹ سے سب کچھ بھول گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوہ! شیرخرما تو بنانا باقی ہے وہ خیالات کی دنیا سے لوٹ آئی۔
کتنے شوق سے کھاتا ہے، اسے پہلے بنانا چاہئے، آئے گا تو اپنے ہاتھ سے کھلاؤں گی۔
جیسے جیسے وقت گزرتا،گیا اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوتی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔اشعر! اسکے بے اختیار نکلا اور دروازے کی جانب لپکی۔
سامنے فوجی ایمبولینس کھڑی تھی، اسکا تو خون جم گیا۔
چار فوجی جوانوں نے ایک تابوت اٹھایا اور گھر کے صحن میں لےجا کر رکھ دیا، ایک فوجی جوان آگے بڑھا اور اس تابوت پر ایک وردی رکھ دی، اس کے بیج پر اشعرچمچما رہا تھا۔ 
کتنا وعدہ شناس تھا اس نے اپنے آنے کا وعدہ پورا کر دیا۔اشعر رات دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہو گیا تھا۔
وہ آگے بڑھی اور بلند آواز میں گویا ہوئی "اشعر بیٹا عید و شہادت مبارک!"
خوشی اور غم کا چشمہ اسکے رخسار تر کر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچن میں چولہے پرپڑا شیرخرما جل چکا تھا!!!!

تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

0 comments:

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار