2090 میں نئے پاکستان کی تاریخ۔

2090 میں نئے پاکستان کی تاریخ۔
ہمارے پاکستان کی سیاست ہی کچھ ایسی ہے کہ ہم کسی بھی واقعے کا فورن تجزیہ نہی کرسکتے۔مگردھول جب چھٹ جاتی ہے تو حلات کا صیح پتہ چلتا ہے۔اسی لئے میں نے سوچا کہ اگر میں 2090 میں ہوں تو اس میں 2014 میں بننے والے نئے پاکستان کے بارے میں تاریخ کیا کہے گی؟؟ آپ خود ہی پڑھ لیں
نیا پاکستان 2014
تحریک نیا پاکستان کا آغاز ماڈل ٹاون اور زمان پارک سے دوپہر تین بجے ہوا
جو 40 گھنٹے میں اسلام آباد پہنچی ۔ شریف حکمرانوں کے ظلم کی وجہ سے ایک لاکھ میں سے ننانوے ہزار نو سات سو پچاس موٹر سائیکل پنکچر ہو گئے ۔ احتجاج سے خوفزدہ ہو کر حکومت نے دس لاکھ انقلابیوں میں سے نولاکھ پچاس ہزار گرفتار کر لئے جس کے باوجود اسلام آباد میں دس لاکھ میں سے نو لاکھ انقلابی پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جن کا ساتھ دینے کو خیبر پختونخواہ سے ساٹھ ہزار انقلابی نیا پاکستان بنانے کو پہنچ گئے جس کے بعد انقلابی مجمع کی کل تعداد بیس لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ انقلابی مارچ نے اسلام آباد میں دھرنا دیا جہاں قائد اعظم ثانی نے موسم کی سختیاں اپنے کارکنان کے ساتھ برداشت کیں اور بالآخر ریڈ زون میں داخل ہونے تک حکومتی ظلم کے باعث صرف پانچ ہزار کارکن پارلیمان کے سامنے پہنچ پائے۔
اسی دوران مفکر نیا پاکستان حکیم البشارات علامہ طاہر القادری کے انقلاب مارچ نے آزادی مارچ کے ساتھ جدوجہد کا آغاز کردیا جس سے شریف خاندان کی حکومت ختم کرنے اور نیا پاکستان بنانے میں مدد ملی۔
قائد اعظم ثانی نے پاکستان بننے سے پہلے پہلی انقلاب ساز اسمبلی سے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا؛
“آپ کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہو، مسلم لیگ (ن)سے ہو،ایم کیو ایم ، جماعت اسلامی یا کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، آپ آزاد ہیں کہ آپ تیر ،شیر، لالٹین، کتاب یا پتنگ کسی بھی نشان پر مہرلگانے یاکسی کے حق میں بھی ٹویٹ کریں ، ریاست کاسیاست اور انتخابات سے کوئی تعلق نہیں۔”
نیا پاکستان بنانے کے لئے دن رات کنٹینر پر سونے ،بارش میں بھیگنے اور مسلسل تقریریں کرنے کی وجہ قائد اعظم ثانی کپتان خان کی طبعیت ناساز رہنے لگی جس کی وجہ سے انہیں ڈاکٹروں کے مشورے سے بنی گالہ منتقل کر دیا گیا جہاں مادر ملت شیریں مزاری نے ان کی دیکھ بھال اور ان کے فیسبک ٹویٹر اکاونٹ پر کارکنان سے رابطے کا عمل جاری رکھا۔ طبعیت بہتر ہونے پر وہ اپنے آبائی علاقہ زمان پارک منتقل ہو گئے اور وفات پانے تک سیلفیز پوسٹ کرتے رہے ۔ ایک صبح طبعیت اچانک بگڑنے پر انہیں ایمبولینس کے ذریعہ شوکت خانم ہسپتال منتقل کرنے کے لئے لے جایا جارہا تھا کہ راستے میں میٹرو بس کی گزرگاہ کے قریب عطااللہ عیسی خیلوی کی آواز میں نئے پاکستان کا قومی ترانہ “جب آئے گا کپتان خان بنے گا نیا پاکستان” سنتے ہوئے ایمبولینس خراب ہونے سے وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔ کپتان خان کی آخری ٹویٹ “نیا پاکستان ۔انقلاب” تھی، ان کی نماز جنازہ مولانا طارق جمیل نے رائیونڈ میں ادا کی جس کے بعد قائد ملت شاہ محمود قریشی نے حکومت سنبھالی۔ آپ کا مزاراسلام آباد ڈی چوک پر کھڑے ایک کنٹینر میں ہے
نوٹ: جملہ حقوق محفوظ ہیں۔اس آرٹیکل کو بغیر اجازتِ مصنف کسی اور جگہ شائع نہیں کیا جا سکتا۔  از محمد اسفند


تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

0 comments:

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار