دل جل رہا ہے

میں کوئی لکھاری نہی ہوں۔میں تو اس ملک کا مستقبل ہوں۔ لیکن  میں کیسے جیوں ملک پاکستان کے حالات دیکھ کر میرا دل جلتا ہے میں جانتا ہوں کہ میں آپنے جذبات کا صیح سے اظہار نہی کر سکتا لیکن اتنا کہوں گا کہ یہ کیسا ملک ہے جہاں اسلام کے نام پر سیات کی جاتی ہے جہاں اسلام کے نام پر جان لی جاتی ہے۔وہ بھی ایسے کہ اگر کوئی دوسرا جان دے تو غلط اگر ہمارا دے توشہید۔۔۔۔!!! میں بس اتنا کہوں گا کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے

2007 ماضی

 جامعہ حفصہ و لال مسجد سے صدائے حق بلند ہوئی ، مساجد کے تحفظ کی قسم کھائی گئی اور یہ عزم کیا گیا کہ ہم دوبارہ کوئی مسجد شہید نہیں کرنے دینگے تو پرویزی حکومت کی ساری مشینری حرکت میں آگئی۔ پولیس متعدد بار جامعہ حفصہ کی بچیوں کو زدوکوب ، ہاتھا پائی ، مارکٹائی اور تنگ کرنے کا ہر حربہ آزما چکی تھی۔ جامعہ حفصہ کی بچیوں کو آتے جاتے راستے کے آوارہ شخص کی طرح آوازیں کسنا اور چھیڑنا معمول بن گیا تھا۔ 
کئی بار پولیس نے جامعہ حفصہ پر دھاوا بول کر چادر اور چار دیواری کے تقدس کا جنازہ نکالا۔ حتٰی کہ ان شیر جوانوں نے اک بار بھی نہیں سوچا کہ ہم یہ حرکتیں کس کے ساتھ کر رہے ہیں اور کس کے کہنے پر کر رہے ہیں ؟ اک جانب پردہ دار باعزت و باغیرت خواتین ہیں جو اس بات پر احتجاج کر رہی ہیں ، سمجھا رہی ہیں ، اپیل کر رہی ہیں کہ ملک کے رکھوالو ! یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا ، آج اس ملک سے " سکیورٹی " کے نام پر مساجد کیوں گرائی جارہی ہیں ؟ حتٰی کہ اسی پاک سرزمین پر مساجد پر بلڈوزر چڑھائے گئے اور قرآن پاک کے تقدس کا خیال رکھنا گوارہ نہ کیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!
جامعہ کی ان پاکباز بہنوں اور بچیوں نے اپنے دفاع کے لئے جب ڈنڈے اٹھائے تو پوری دنیا نے ان ڈنڈوں کے خلاف خوب پراپیگنڈا کیا۔ میڈیا نے خوب ڈالر چھاپے ۔۔ مولbیوں نےشاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بنتے ہوئے خوب فتوے سجائے۔ جن میں اک نام جناب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا بھی ہے۔ موصوف نے اک بہت لمبے چوڑے فتوے کی کتاب چھاپی۔ حکومت کے غلط قدم پر آواز اٹھانا بھی جرم قرار دیا اور خارجی و تکفیری سوچ اور بغاوت کا نظریہ سمجھایا۔
اس وقت جب ان بچیوں سے سوال کیا گیا کہ آپ نے ڈنڈے کیوں اٹھائے ہیں تو انہوں نے جواب میں ہمیشہ یہی کہا کہ اپنے تحفظ و دفاع کی خاطر ہم نے یہ کام کیا ہے۔

آج 2014


آج بھی کچھ ایسے ہی مناظر دیکھنے میں آئے۔ جب منھاج القرآن کی خواتین اپنے دفاع میں ڈنڈے اٹھائے ، آنکھوں پر خاص قسم کی عینکیں لگائے اور چہروں پر ماسک لگائے پوری تیاری کے ساتھ میدان میں موجود تھیں۔ اینکر نے سوال کیا کہ ان لوازمات کی کیا ضرورت سمجھ رہی ہیں تو جواب ملا 
" ہم اپنے دفاع کے لئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں "
وہاں موجود خواتین و حضرات کی باتوں میں اک بات مشترک تھی کہ پاکستان کے حالات بد سے بدترین ہوچکے ہیں۔ نہ بجلی ہے ، نہ پانی ہے ، نہ روزگار ہے ، نہ تعلیم ہے نہ خوشحالی ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔ سب سے حیران کن بات جو اک بزرگ خاتون نے کی وہ یہ تھی کہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کیا سمجھتی ہیں اس طریقے سے انقلاب آجائیگا ؟ آپ لوگ ووٹ کی طاقت سے انقلاب کیوں نہیں لاتے ؟
بزرگ خاتون نے  جواب دیا کہ
"آپ بتائیں آج تک اس ملک میں اتنے ووٹ ڈالے گئے کوئی تبدیلی آئی ؟ ووٹ سے کبھی بھی تبدیلی نہیں آسکتی ، تبدیلی ایسے ہی آئے گی جب ہم باہر نکلیں گے۔"
آج تک جب ہماری جانب سے یہ بات کی جاتی رہی تو ہمیں ملک دشمن ، غدار ، باغی ، خارجی ، تکفیری اور نہ جانے کیا کیا کہا جاتا رہا لیکن آج ہمارے ہی ملک کی یہ خواتین و حضرات وہی باتیں کر رہے ہیں جو کل تک جامعہ حفصہ کی پردے میں لپٹی بہنیں کہا کرتی تھیں.
نوٹ: جملہ حقوق محفوظ ہیں۔اس آرٹیکل کو بغیر اجازتِ مصنف کسی اور جگہ شائع نہیں کیا جا سکتا۔  از محمد اسفند

تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

0 comments:

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار