حقیقی آزادی


حقیقی آزادی

میری طرف سے  تمام اہل وطن کو آذادی مبارک ہو۔اور ان کوخصوصی مبارک ہو جنہوں نے جسمانی آذادی کے ساتھ ساتھ ذہنی غلامی سے بھی آذادی حاصل کی۔اور میری دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ان سب مسلمانوں کو آذادی عطافرماے جو اس وقت دنیا میں کہیں بھی ظلم وستم برداشت کررہے ہیں۔ہمارے لئے یہ خوشی کا دن ہے کیوں کے اس دن دنیا میں ایک نیا وطن ایک نعرہلا اله الا الله کے سائے میں وجود میں آیا۔ 


مگر صد افسوس کہہم آج تک اس ملک کی حقیقی معنوں میں قدر نہ کر پائے۔ ہم 68 سال گزرنے کے بعد بھی ذہنی آذادی حاصل نہ کر پائے۔ہم آج بھی کفر کے فتوے پر لبیک کہتے ہوئے آپنے ہی محافظوں،شہریوں،کی جان لے لیتے ہیں۔جسے ہم شریعت کا نام دیتے ہیں۔مجھے شکوہ صاحب اقتدار سے نہی آپنوں سے ہے۔زیادہ دور کیوں جائیں کل رات ہی کی بات کرتے ہیں میں ٹیلی وژن پر آذادی کے حوالے سے منعقد ہونے والی مرکزی تقریب دیکھ رہا تھا کہ ایک دوست کا موبائل پر پغیام موصول ہوا کہ یہ کیسا پاکستان ہے جہاں اللہ کا شکر ادا کرنے کلئے ناچ گانا کیا جا رہا ہے میں نے موصوف کو فورن جواب دیا کہ مجھے تو ایسا کچھ نہی نظر آ رہا۔تو موصوف نے فورن ایک ملی نغمے کی ویڈیو اور دو تین تصاویر ارسال کر دی جو لڑکیوں کے کالج سے لی گئی تھیں۔اور ساتھ یہ بھی کہ دیا کہ ہم پاکستان میں شرعیت نافذ کر کے رہیں گیں۔
میں جب بھی ان سے پوچھتا ہوں کہ تم شریعت کیسے نافذ کرو گے تو آئیں بائیں شائیں کرنے لگتے ہیں۔میرے عزیز دوستوں ملک کے نوجوانوں اگر تم ملک کلئے کچھ کرنا چاہتے ہو تو اس کا واحد حل ہے کہ تم صاحب اختیار بن جاؤ.صاحب اختیار بننےکلئے ضروری ہے کہ تم آپنی تعلیم پر ساری توجہ مرکوز کرو اور تعلیمی قابلیت ہی تمہیں صاحب اختیار بنائے گی۔ اسلام بھی تعلیم کا اس قدر اہتمام کرتا ہے جس کی مثال ہیمں اس وقعے سے ملتی ہے ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ نے قریش کے جنگی قیدیوں کے لئے شرط رکھ دی تھی کہ  تم میں سے جو فدیہ ادا نہ کر سکے وہ 10 مسلمان بچوں کو تعلیم دے۔ مگر صد افسوس کہ آج کا نوجوان آپنا سارا وقت انٹرنیٹ یا فلموں میں ضائع کرتے ہیں۔اور میں شرعیت لانے والوں سے بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ
 کیا کیا تم نے شریعت نافذکرنے کلئے؟
کیا تم ارباب اختیار نہی بن سکتے؟
اور آکر میں ان سے یہی کہوں گا کہ اگر تم باتیں کرتے ہوں شریعت کی تو بن جاؤ صاحب اختیار اور کرو اس عمل کو تبدیل لیکن تم نہی کرو گے کیوں کہ بات کرنا آسان ہے کام کرنا  مشکل ہے
نوٹ: جملہ حقوق محفوظ ہیں۔اس آرٹیکل کو بغیر اجازتِ مصنف کسی اور جگہ شائع نہیں کیا جا سکتا۔  از محمد اسفند


تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

0 comments:

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار