اگر ہم عرض کریں گیں تو شکایت ہو گی۔

اگر ہم عرض کریں گیں تو شکایت ہو گی۔

 12اگست 1924ء تا 17 اگست 1988ء
آج پاکستان کے جنرل ضیاءالحق کی شہادت کا دن ہے.ایک ایسا لیڈر جس کی شہادت کے بعد تو لوگ اس پر انگلی اٹھاتے ہیں مگر جب وہ زندہ تھا تو روس کا وزیر اعظم بھی اس سے نظر ملا کر بات نہی کر سکتا تھا۔ مجھے شکوہ یہ ہے کہ  آج میڈیا نے کتنی بار انہیں یاد فرمایا۔
مجھے شکوہ نواز شریف سے نہی اعجاز الحق سے نہی شکوہ تو مجھے اس عوام سے ہے۔اورعوام بھی ایسی جو آپنے محسن کی رتی بر بھی قدر نہی کرتی۔آخر ہم کب بیدار ہوں گیں؟؟
میں ایسی عوام سے شکوہ کر رہا ہوں جو نعرہ تو لگاتی ہے ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں مگران کا محسن ڈاکٹر عبدالقدیر نظر بندی کی زندگی گزار رہا ہے۔
ایک ایسی قوم جو آپنے ایسے جنرل کا یوم شہادت بھول جاتی ہے جس نے انہیں ایٹم بنانے کلئے پلیٹ فارم مہیا کیا۔

ہم ایک ایسی قوم ہیں جو امریکہ کی بربادی کے نعرے تو بہت لگاتی ہے مگر جب امریکہ کا ویزہ آ جائے تو ماں،بہن،بیٹی تو کیا اسلام تک قربان کر دیتی ہے۔

میں کیا لکھوں اس قوم کی تقدیرجس کی بہن عافیہ صدیقی انگریز کی غلامی میں ہے۔
میں شکوہ تو کرنا چاہتا ہوں مگر اس امید پر خاموش ہو جاتا ہوں کہ ایک دن تو اس قوم پر بیداری کا سورج طلوع ہو گا۔اور پھر ہم حقیقی معنی میں ایک زندہ قوم بنیں گیں۔انشاءاللہ

نوٹ: جملہ حقوق محفوظ ہیں۔اس آرٹیکل کو بغیر اجازتِ مصنف کسی اور جگہ شائع نہیں کیا جا سکتا۔  از محمد اسفند

تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

0 comments:

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار