پُر مزاح مگر حقیقت۔۔۔۔!

میرا ایک دوست تحریک انصاف کا پرجوش حامی اور کارکن ھے۔ وہ کل میرے پاس آیا اور اصرار کرنے لگا کہ میں خان صاحب کے چودہ اگست کے آزادی مارچ میں شامل ہوجاؤں۔ میں نے مصروفیت کا بہانہ بنانا چاھا تو وہ پیچھے پڑگیا۔ کبھی پرسوں کی دوستی کا واسطہ دے کر اور کبھی ملک میں تبدیلی کی جدوجہد کی حمایت کو قومی فریض کہہ کر مجبور کرے۔ میں اس کی باتیں چپ چاپ سنتا رھا اور پھر اسے لے کر محلے کی ایک دودھ دہی کی دکان پر چلا گیا اور دو گلاس ٹھنڈی، میٹھی لسی کے آرڈر کردیئے۔
دکاندار نے کونڈے سے دہی نکالا اور اپنی بجلی کی گڑوی میں ڈال دیا۔ پھر اس میں برف، چینی، دودھ اور پانی ملا کر بٹن دبا دیا۔ تقریباً پینتالیس سیکنڈ میں مزے دار لسی تیار ہوچکی تھی۔ دکاندار نے گلاس ہماری طرف بڑھائے۔ میزبان ہونے کے ناطے میں نے دونوں گلاس پکڑ لئے اور ایک گلاس اپنے دوست کو پیش کرے ہوئے کہا کہ لو، کیلے کا ملک شیک پی لو۔
کہا کہ لو، کیلے کا ملک شیک پی لو
دوست حیران ہوا اور میری تصیح کرتے ہوئے بولا کہ یہ کیلے کا ملک شیک نہیں بلکہ دہی کی لسی ھے۔
میں نے پھر کہا کہ اچھا چلو کیلے کا نہ سہی، یہ آم کا ملک شیک ھے، پی لو۔ اس نے پھر کہا کہ یہ ملک شیک کیسے ہوسکتا ھے؟ دکاندار نے ہماری آنکھوں کے سامنے دہی، دودھ، چینی اور برف ڈالی تھی پھر آم کا ملک شیک کیسے بن سکتا ھے؟
میں نے اپنے دوست کے کاندھے پر ہاتھ رکھا، اس کا ماتھا چوما اور کہا:
"میرے بھولے دوست، شیخ رشید، شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، چوہدری برادران، اعظم سواتی، عائلہ ملک، فوزیہ قصوری جیسے جاگیردار اور وڈیروں کے ساتھ کرپشن کی لسی ہی بن سکتی ھے، تبیدلی کا ملک شیک نہیں۔ چاھے جتنا مرضی اپنے آپ کو دھوکہ دے لو۔ ۔ ۔ ۔ ۔"
یہ سن کر میرے دوست نے چپ چاپ لسی پینی شروع کردی اور میں دکاندار سے ایک دفعہ پھر ادھار کرکے واپس آگیا!!!

تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

0 comments:

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار