ایک عالم دین اور شرابی کا مکالمہ

شراب"جناب! مجھے بتائیں کہ اگر میں کھجوریں کھاؤں تو آپ کو کوئی اعتراض ہے...؟
عالم:
"بالکل کوئی اعتراض نہیں"...
شرابی:
" اگر اس کے ساتھ کچھ جڑی بوٹیاں کھا لوں؟
عالم:
" کوئی رکاوٹ نہیں"....

شرابی:
"اور اگر میں ان میں پانی شامل کر لوں؟
عالم:
"بڑے شوق سے پیو"....
شرابی:
"جب یہ ساری چیزیں جائز اور حلال ہیں تو پھر آپ شراب کو کیوں حرام کہتے ہیں....
حالانکہ اس میں یہی چیزیں تو ہیں جن کے کھانے اور پینے کی اجازت آپ دے رہے ہیں. یعنی کھجوریں, پانی اور جڑی بوٹیاں....!
عالمِ دین شرابی سے:
"اگر تمہارے اوپر پانی پھینکا جائے تو اس پر تمہیں کوئی اعتراض ہو گا...؟
شرابی:
"ہرگز نہیں, پانی سے کیا فرق پڑتا ہے...!
عالم:
"اچھا, اگر اس پانی میں مٹی گھول دی جائے تو تم اس سے مر جاؤ گے....؟
شرابی:
"جناب..!
مٹی سے میں نے کسی کو مرتے ہوئے نہیں دیکھا...
عالم:
"اگر میں مٹی اور پانی لوں اور ان کو گوندھ کر ایک اینٹ بنا لوں اور اسے خشک کر کے تمہیں دے ماروں تو کیا ایسا کرنے پر تمہیں کوئی اعتراض ہے....؟
شرابی:
"جناب...!
اس سے تو آپ مجھے قتل کر دیں گے....
عالم نے کہا:
" شراب کا بھی یہی حال ہے...
اللہ پاک نے ہم کو جس بات سے بھی روکا ہے اس میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہے....
ہم کو اپنی طرف سے تاویلیں نہیں گھڑنی چاہیے بلکہ اللہ کے احکامات کی پیروی کرنی چاہیے...
بشکریہ خواتین کا سلام

تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

0 comments:

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار