سانحہ پشاور کیوں ہوا؟حقیقت

سانحہ پشاور کیوں پیش آیا ---؟؟؟

حقیقت جاننے کےلیئے یہ ضرور پڑهئے.

ایک گاوں میں ایک غریب بڑهیاں رهتی تهی جس کا کوئ نہ تها ، روزانہ رات کے وقت کوئ آتا تها اور اس بڑهیاں کے گهر میں جو کنواں تها اس کنویں سے پانی نکالنے والا ڈول کا رسی کاٹ کر ڈول کو کنویں میں پهینکر بهاگ جاتا تها.
بڑهیا روزانہ صبح شور مچاتی تهی بیچاری لیکن اس کی کوئی بهی سننے والا نہ تها ، کئ مہینے تک یہ کهیل چلتا رہا ایک دن بڑهیاں نے رات کے وقت پورے گاوں میں جتنے کنویں تهے سب کی رسیاں کاٹ کر ڈولوں کو کنووں میں پهینک دیا صبح جب لوگ اٹهے اور دیکها کہ یہ توسب کے سات ایسا هوا هے تو سب کے سب غصے سے آگ بهگولہ ہوگئے ، ہر کوئ کہتا تها یہ کس نے کیا ہے پتہ چل جائے تو هم یوں کردینگے هم وه کردینگے بہت دیر تک هر کوئ غصے سے چهنگیزخان بنا هوا تها جب کسی کو بهی معلوم نہ ہوسکا کہ یہ کس نے کیا ہے تو بڑهیا آگے بڑهی اور سب کو جمع کرکے کہا کہ یہ میں نے کیا ہے اور یہ اس لیئے کیا هے تم سب کی آنکهیں کهل جائے آپ کے سات صرف آج هوا هے جس سے تم لوگوں کو بہت تکلیف ہوا ہے اورسب نے آسمان سر پر اٹهایا هوا ہے میرے ساتھ کئ مہینوں سے ہورہا ہے میں روز چیختی چلاتی ہوں پر میری آواز کو سننے والا کوئ نہیں تها ---

اور سب کو جمع کرکے کہا کہ یہ میں نے کیا هے


کئ سالوں سے قبائل پر ڈرون حملے اور جیٹ طیاروں سے وحشیانہ بمباریاں ہورہی ہے اس میں کتنی چهوٹے چهوٹے معصوم بچوں کی پرخچیں اڑهتی ہیں۔ بموں سے اور کتنی عورتیں شهید ہوئی ہیں یہ مہینوں سے نہیں کئی سالوں سے ہورہا ہے
کیا اس وقت لوگوں کو یہ خیال نہیں آیا کہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے یا نہیں ؟
کیا قبائل کے بچوں اور عورتوں کی کوئی حیثیت اور قدر نہیں ؟
ان کی بچوں پر بهی کسی نے اتنا ہی ماتم کیا هے جتنا آج پشاور کے بچوں پرکررہاہے؟

پشاور واقع اس  فوج کے اپنے ہاتھ کی کمائی ہے۔ بے شک اللہ رب العزت کا فرمان سچ ہے۔

<ھل تجزون إلاّ ماکنتم تعلمون>(سورہ نمل/۹۰)
”کیا تمھیں تمھارے اعمال کے علاوہ بھی کوئی معادضہ دیا جاسکتا ہے۔“

ایک دوسری جگہ پر اللہ ربلعزت فرماتا ہیں:

<إنّ اللّٰہ لا یظلم النّاس شیئاً ولکنّ الناّس انفسھم یظلمون>
(سورہ یونس/۴۴)
”اللہ انسانوں پر ذرّہ برابر ظلم نہیں کرتا ہے بلکہ انسان خودہی اپنے اوپر ظلم کیا کرتے ہیں۔“

مزید اللہ رب العزت فرماتا ہیں:

<إنّ اللّٰہ لا یظلم مثقال ذرّة>
”اللہ کسی پر ذرّہ برابر ظلم نہیں کرتا ہے۔“
'''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''
نوٹ: جملہ حقوق محفوظ ہیں۔اس آرٹیکل کو بغیر اجازتِ مصنف کسی اور جگہ شائع نہیں کیا جا سکتا۔  از محمد اسفند

تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

0 comments:

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار