ممالک کے ناموں کا مطلب اور وجہ تسمیہ

فیس بک پر آوارہ گردی کے دروان ملا سائفن کی ایک پوسٹ ہاتھ لگی جو بہت ہی دلچسپ تھی سوچا کہ آپ کو بھی اس سے مستفید کروا دیتے ہیں 
افغانستان
1_ آہ وفغاں کی سرزمین
کہتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل کے گمشدہ قبائل سے ایک قبیلہ اس جگہ آیا جہاں آج کابل و زابل کے شہر آباد ہیں تو یہاں پر آباد مقامی لوگوں نے ان کی مزاحمت کی اور اتنی خون ریز جنگیں ہوئيں کہ ہر طرف آہ و فغاں ہونے لگی اور اسی باعث اسے اس ستان (ہندی استھان، مراد ہے جگہ) کو آہ و فغاں ستان قرار دیا جو بعد ازاں بگڑ کر افغانستان بن گیا

2_ ایک ہزار سال قبل از مسیح حضرت طالوت (ساؤل) علیہ السلام کے پوتے افغانہ (اواگانہ) بن ارمیا (ژرمیا) اس علاقے میں آۓ اور وہ افغان صوبہ غور (دوسری ررایت کے مطابق ژوب، پاکستان) میں مدفون ہیں. انہی سے آگے یہ نسل چلی.
حوالہ. مخزن برطانوی
اسی سبب پختون خود کو بنی اسرائيل سے بتاتے تھے. شاہ نامہ میں انکو "اوگانہ" لکھا گیا ہے. اور اس زمین کو اسی کے نام کی مناسبت سے افغانستان قرار دیا.
اسکے نام بارے اور بھی مفروضے ہوں.
البانیہ
البانیہ سے مراد "سفیدہ"، "دھودھیا" ہے.
مقامی طور پر اس ملک کو "شقیپیری" کہتے ہیں جس کا مطلب "عقابوں کی اولاد" ہے. یاد رہے کہ ستھرہویں صدی عیسوی سے پہلے اس ملک کے باشندے اربیری یا اربیریا کہلاتے تھے.
اینڈورا
فرانس اور ہسپانیہ کے درمیان میں گھری یہ چھوٹی سی ریاست ہے. جس کا نام عربی کے لفظ "الدرہ" سے ماخوذ ہے.
ارجنٹینا
براعظم جنوبی امریکہ میں واقع یہ ملک ہسپانوی نوآبادی تھی. اس کے نام کی وجہ تسمیہ اس میں بہنے والے دریا "چاندی دریا" کے باعث ہے. لاطینی میں ارجنٹیم چاندی کو کہتے ہیں، کیمیا پڑھنے والے جانتے ہیں کہ دوری جدول میں Ag سے مراد ارجنٹیم یعنی چاندی ہے. اور ارجنٹینا سے مراد بھی چاندی کی زمین کے ہیں.
آسٹریلیا
آس کا لفظ لاطینی ہے جسکا مطلب جنوب ہے
اور ٹیرا سے مراد زمین ہے
ان دونوں کو بمطابق لاطینی قواعد ملا کر آسٹریلیا بنا. جس کا مطلب جنوبی زمین ہے.
آذربائيجان
یہ لفظ فارسی سے ماخوذ ہے. جو کہ 1918 میں اپنایا گیا. اس سے پہلے یہ نام "آذربادگان" اور "آذربادھگان" تھا. یہ بھی پرانی فارسی کے لفظ "اتروپاتکان" سے اخذ کیا گیا ہے. یاد رہے "اتر (بعد ازاں آذر)" زردتشت مذہب میں مقدس آگ کو کہتے ہیں. اور بادگان کا مطلب ہے "محافظ". اس طرح آذربادگان (آذربائیجان) کا مطلب ہوا "مقدس آگ کا محافظ".
یاد رہے کہ قبل ازاسلام اس علاقے کے باسی آگ پرشت تھے اور آج بھی آذربائيجان کا،جو سرکاری نشان ہے وہ لفظ "اللہ" ہے جس کی خطاطی آگ کی مانند ہے. کی اکثریت اہل تشیع ہے.
بحرین
ایک خلیجی ریاست ہے. اس کا مطلب ہے دو سمندر
بنگلادیش
بنگالیوں کا ملک.
لفظ بنگال، ہندوؤں کی کتاب مہابھارتا میں سے ماخوذ ہے. جس میں اس سرزمین کو بنگا (ونگا) راجیہ لکھا ہے. اور تو اور ایک بونگا یا بھونگا نامی دیوی بھی ہے.
* ویسے شاید کسی نے غور کیا ہو. میرے خیال میں بنگال کا لفظ جہاں سنسکرت لفظ بنگا یا ونگا ماخوذ ہے. (یاد رہے کہ یہ دوران ترجمہ لسانی مزاج ہوتا ہے کہ جس کو بنگالی میں بندے ماترم پڑھتے ہیں اسے ہندی و پنجابی وغیرہ میں وندے ماترم کہتے ہیں.) تو بنگاں پنجابی و ہریانوی و ہندی میں چوڑی (بنگلس، بریسلیٹ) کو بھی کہتے ہیں. کہیں یہ بنگال اسی سے ماخوذ ہو گا.
ویسے ہو سکتا ہے کہ "بنگلہ" سے "بنگال" بنایا گیا ہو. بنگلہ کا مطلب کوٹھی، محل ہے. اس طرح
مالدیپ
عربی میں ان جزائر کے مجموعے کو "محل" کا نام یا گیا. جسکی پنجابی و اردو کوٹھی، بنگلہ میں کر سکتے ہیں تو بنگال کی بھی سمجھ آ جاۓ گی.
سنسکرت زبان سے مالدیپ لفظ لیا گیا ہے. جسکا مطلپ موتیوں کا چراغ یا جزیرہ ہے.
بھوٹان
ایک مفروضے کے مطابق بھوٹان لفظ سنسکرت کے "بھو اٹھان" سے ماخوذ ہے. بھو سے مراد جگہ (بھومی) اور اٹھان سے مراد اونچی. یعنی اونچی جگہ.
جبکہ دوسرے مفروضہ کے مطابق نیپالی زبان کے "بوڈو ہتان" سے ماخوذ ہے جسکا مطلب "تبتیوں کی جگہ" ہے.
مقامی طور پر اس ملک کا نام "ڈرک یل" ہے. (تبتی کشمیر کو کاچی یل کہتے ہیں، بمراد مسلمانوں کا دیس) جس کا مطلب "گرجتے اژدہے (ڈریگن) کی سرزمین"
بورکینا فاسو
صحارائی افریقی ملک ہے جسکا پہلے نام وولٹا بالا (اپروولٹا) تھا یعنی دریاۓ وولٹا کے اوپر کی زمین. پچاس فیصد مسلم اکثریت کے اس ملک کا نام دو زبانوں سے مشتق ہے. بورکینا مورے زبان سے ہے جسکا مطلب ایماندار آدمی اور فاسو دیؤلا زبان سے ہے جسکا مطلب باپ کا گھر ہے. یعنی بورکینا فاسو کا مطلب ایماندار آدمیوں کے باپ کا گھر.
چین
چین لفظ عربی کے الصین سے نہیں بلکہ سنسکرت کے چین سے ہے. یہ مہابھارتا میں موجود ہے اور اس وقت کے اس علاقے میں قائم خاندان قین سے بنا ہے. چین کو پہلے کیتھے اور ختن بھی کہتے تھے. جبکہ اہل مغرب اسے سیریس یا سیریکا بھی کہتے تھے. لفظ چائنا بھی چين سے بنا ہے.
مقامی طور پر اس ملک کا نام "زھونگو" ہے جس کا مطلب مملکۃ وسطی ہے.
کوموروس
چار جزائر پر مشتمل یہ مسلم اکثریتی بحرہند میں تنزانیہ کے ساحل سے ذرا دور واقع ہے. کوموروس اصل میں عربی نام "قمر" (چاند) کا فرانسی مائل ہے.
آئيوری کوسٹ
عابدجان کے دارالحکومت والے اس افریقی ملک کا فرانسی نام "کوئیٹے دائيواغ" ہے. اور اہل عرب اسے "ساحل العاج" کہتے ہیں. دونوں کا معنی "ہاتھی دانت کا ساحل" ہے.
قبرص
فرنگی اسے سائپرس کہتے ہیں، جبکہ اہل مشرق اسے قبرص کہتے ہیں. دونوں کا مطلب تانبا ہے.
ڈومینیکا آئي لینڈ
آئی لینڈ سے مراد جزیرہ اور ڈومینکا لاطینی زبان میں اتوار کو کہتے ہیں. یعنی جزیرہ اتوار. لیکن 3 نومبر 1493 کو کرسٹوفر کولمبس نے اسے دریافت کرتے ہوۓ اپنے باپ ڈومینگو کے نام پر اسے نام دیا.
ایتھیوپیا
ایتھوپیا سے مراد "کالے چہرے والوں کی زمین.
ویسے اسی کو فرنگی ایبےسینیا، ہم مسلم جبشہ کے نام سے جانتے ہیں.
فجی
بحرالکاہل میں جزیروں کا چھوٹا سا ملک، جہاں پر اردو جاننے والوں کی تعداد %20 سے %50 تک ہے. اس کے نام کا مطلب "باہر دیکھو"
جارجیا
کوہ قاف کی جنوب مغربی سمت میں یہ عیسائی ملک واقع ہے. جسکا دارالحکومت تبلیسی ہے. بعضروایات کے مطابق اسی کی دیوار_کوہ قاف ہی سد_سکندری ہے، جہاں یاجوج ماجوج کو روکا گيا تھا. جارجیا لفظ فارسی کے گرجستان کے معرب جرجستان سے بگڑتا جارجیا بنا ہے. جبکہ اس ملک کا مقامی نام "سکارٹ ویلو" ہے.
گھانا
اس افریقی ملک کے نام کا مطلب "جنگجو بادشاہ" ہے.
گریناڈا
اس جڑائر غرب الہند کی ریاست کا نام ہسپانوی شہر گریناڈا سے ہے. جو کہ اندلوسی عربوں کا بنایا اور ہمارے شاندار ماضی کا نشان شہر "غرناطہ" کا بگڑا ہوا نام ہے.
ہنگری
یہ ترکش زبان کے لفظ "اون اگور" سے ماخوذ ہے. جس کا مطلب دس تیروں والے (آدمی). دوسرے الفاظ میں "دس قبیلوں کا اتحاد" ہے.
جبکہ مقامی طور پر اسکا نام "مگیار" ہے. عربی میں مجر اور ترکش و فارسی میں مجارستان کہلاتا ہے.
بھارت
اس ہندو اکثریتی ملک کے کئی نام ہیں.
ہندو اسے بھارت کہتے ہیں جو کہ اصل میں شمالی ہند کے اترپردیش، مدھیہ پردیش، پنجاب، ہریانہ، راجپوتانہ، بنگال و بہار کا علاقہ تھا. بھارت لفظ میرے خیال میں بھرت سے ہو گا جسکا مطلب "روزہ" ہے. 
2_ دوسرا نام ہند اور ہندوستان ہے
اہل فارس نے اس دریاۓ سندھ کے علاقے کو جو کہ سندھ کہلاتا تھا، کو ہند کا نام دیا. کیونکہ ہم نے دیکھاکہ ترجمہ کے وقت لسانی تعصب و مزاج کی بنیاد پر صوت و ہجہ بدل جاتے تھے. سندھ اسی طرح ہند بن گیا جیسے سنسکرت کا سپت (سات) کو فارسی میں ہفت بن جاتا ہے. اور اسی طریق پر عربی و فارسی کا ہند فرنگی زبانوں میں انڈیا میں بدل گیا. کیونکہ فارسی و عربی کا "ہ" فرنگی زبانوں میں "ا" کی جگہ، اور "د" کو "ڈ" اور یونانی طریق پر ہر ملک کے آخر میں "يا" لگ جاتا ہے. جیسے جارجیا، کروشیا، آرمینیا، پرشیا، ترکیا، البانیا.
ویسے ایک بات سوچ رہا تھا کہ لاطینی و یونانی لفظ انڈیم کا مطلب "نیلگوں" ہے. اسی وجہ سے دریاۓ سندھ کو یونانی میں انڈس کہنے کی بنیاد پر ترکش میں "نیلاب"
کہا جاتا ہے.
ایران
آریاؤںکی زمین. اور اسی ملک کا تاریخی نام "فارس" ہے.
ویسے آریا کا مطلب "شہری، شریف" ہے (اسی طریق پر ایران سے پرے جو توران ہے اور اسکا مطلب ایک مفروضے کے مطابق غیرمہذہب ہے)
فارس بھی لفظ فرس ہے. جو گھوڑے کو کہتے ہیں.
اسی فارس کو فارسی میں پارس کہا جاتا تھا، جسکا مطلب ایماندار، نیک ہے. اور یہی یونانی میں پرشیا میں بدل جاتا ہے.
صومالیہ
اس ارنا افریقہ کے مسلم ملک جو آج کل طوائف الملوکی کا شکار ہے. اس کے نام کا مطلب منفرد ہے کہ "جاؤ اور دودھ دھو" (پنجابی= جا تے دودھ چو)
باقی پھر کبھی سہی

تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

1 تبصرہ:

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار