دوہزار چودہ کا ہیرو؟۔۔

دوہزار چودہ کا ہیرو؟
کئی ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز کا موضوع تھا، دوہزار چودہ کا ہیرو کون رہا؟
کسی نے عمران خان، تو کسی نے نواز شریف کو ہیرو گردانا۔۔۔۔ 
بوٹ پالیشیوں ﴿پالش کرنے والوں﴾ نے جنرل راحیل شریف کو ہی ہیرو قرار دے دیا۔
وہ الگ بات ہے کہ پشاور کا افسوس ناک واقعہ بھی ان کی حدود اربعہ میں پیش آیا۔ پھر بھی میڈیا نے ایسی اندھی چلائی کہ اسکول کی سیکورٹی کے ذمہ دار صاف بچ نکلے ۔
خیر بات کہیں سے کہیں نکل گئی۔۔ بات ہورہی تھی۔۔ ہیرو دوہزار چودہ کی۔۔۔ تو ایک شخص جو دوہزار چودہ آنے سے پہلے ہی معتوب تھا۔۔ گھر سے باہر نکلنے میں جان کا دھڑکا رہتا تھا۔۔۔ عدالتوں میں پیشیوں پر بیماری کے سرٹیفکیٹ پیش کرتا تھا، بیمار والدہ سے ملنے کی اجازت نہ تھی، اُس کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے کا آغاز ہوا پھر دوہزار چودہ گزرتا گیا۔۔ ایسا وقت بھی آیا کہ عدالت میں پیش ہوکر اپنی صفائی پیش کرنا پڑی۔۔۔ لیکن حالات نے پلٹا کھایا۔۔ میاں صاحب کی بے وقوفیاں توقع کے مطابق رنگ لانے لگیں۔۔ حالات ملک کے خراب اور صاحب کے لیے اچھے ہونے لگے۔۔۔ 
آج کل ان کے پاس ملاقاتیوں کی قطار ہے۔۔۔ کل جو لوگ ان کی جان کے درپے تھے آج وہ پھندے پر جھولنے لگے۔۔۔ مخالفین کو بھی چپ لگ گئی۔۔ غداری کا مقدمہ اسی عرصے میں لپیٹنے کی نوبت آگئی۔۔۔ اس سب کے باوجود ہمارے ٹی وی چینلز کے اینکرز پوچھ رہے ہیں دوہزار چودہ کا ہیرو کون؟
ہیرو وہی ہے۔۔۔ جب ہی تو اس کے سارے ولن فلم کے کلائمکس میں پھانسی پر لٹکائے جارہے ہیں۔
لیاقت علی خان سے لیکر بے نظیر تک اور آج کے دن تک پاکستان میں قتل ہونے والے ایک عام سول فرد تک ۔۔ کبھی کسی کا قاتل نہیں پکڑا گیا ، لیکن مشرف پر حملے کے تمام ملزمان نہ صرف پکڑے گئے بلکہ پھانسی پر بھی لٹکا دیئے گئے ۔۔۔ یہ کیسا انصاف ہے پاکستان میں
نوٹ یہ تحیر میں نے اس تحریر کے زیل میں لکھی ہے۔ پشاور حملے میں پاک فوج ملوث!!!
نوٹ: جملہ حقوق محفوظ ہیں۔اس آرٹیکل کو بغیر اجازتِ مصنف کسی اور جگہ شائع نہیں کیا جا سکتا۔  از محمد اسفند

تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

0 comments:

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار