میکروٹک سرور کے ساتھ یو ایس بھی کو شیئرکرنا۔

میکروٹک میں فائل شئیرنگ رول کو استعمال کر کے یو ایس بی کو شئیرکرنا۔

اسلام علیکم اسفند نامہ پر پچھلی پوسٹ میکروٹک میں میکروٹک میں یوایس بی وغیرہ کو نیٹ ورک پر میکروٹک سرور سے شئیر کرنے کے لئے پروٹوکول بنانا۔ تھی اس پوسٹ کو آپ اس لنک پر ملاحضہ کر سکتے ہیں اس پوسٹ میں ہم نے رول بنانے کا طریقہ ملاحضہ کیا تھا    اس پوسٹ میں ہم اسی طریقے کو استعمال کرتے ہوئے یو ایس بی کو سرور کے ساتھ لگانا اور شئیر کرنا سیکھیں گیں۔
نوٹ: یہ پوسٹ 5.20میں بنائی گئی ہے باقی ورژن کا طریقہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے۔  
صحابہ رض اللہ کا دفاع اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔
01
 سب سے پہلے ہم نے جو ڈیوائس کو شئیر کرنا ہے اس کو سرور میں لگائیں۔ اور اس کے بعد آپ  سسٹم میں سٹور لسٹ میں آجائیں۔یہاں آپ کے پاس وہ ڈیوائس کنیکٹ نظر آ رہی ہو گی لیکن وہ خالی ہو گی جیسا کہ تصویر میں ہے
اس کے بعد آپ نے اس کو فارمیٹ کرنا ہے اس کے لئے فارمیٹ پر کلک کریں
جیسا کہ اب ڈیوائس فارمیٹ ہو رہی ہے۔
اس کے بعد اب ہماری ڈیوائس مکمل طور پر تیار ہو چکی ہے


اور اب ہماری ڈیوائس ہمارے  شئیر فولوڈر میں نظر آرہی ہے
یہ تھا ایک چھوٹا سا کام لیکن بہت ہی اہم ہے  آپنی دعاؤں میں یارد رکھیں اللہ حافظ
نوٹ: جملہ حقوق محفوظ ہیں۔اس آرٹیکل کو بغیر اجازتِ مصنف کسی اور جگہ شائع نہیں کیا جا سکتا۔  از محمد اسفند




تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

8 تبصرے:

  1. بھائی جان اگر کوئی میڈیا سرور بنانا ہو تو اسکے بارے میں آپ سے رابطہ کریں یا آپ بلاگ پر فری میں بتا دیں گیں

    جواب دیںحذف کریں
  2. BROTHER IS SAY PHR KYA HO GA JAB YA SHAIR HO JHY GE...

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. آپ میڈیا شئیرنگ کے لئے استعمال کرسکتے ہیں یو ایس بی کو

      حذف کریں
  3. SALAM BROTHER.
    BROTHER MANY MOBILE 3G KO MIKROTIK SERVER MAY USE KARNA CHATA HOUN PLZ OS KAY BARAY MAY MUJY THORA GUIDE KAR DAY WO KASAY HO GA?

    جواب دیںحذف کریں
  4. SALAM BROTHER.
    BROTHER MANY MOBILE 3G KO MIKROTIK SERVER MAY USE KARNA CHATA HOUN PLZ OS KAY BARAY MAY MUJY THORA GUIDE KAR DAY WO KASAY HO GA?

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. اس کے لئے مختلف ڈیوائسز استعمال ہوتی ہیں جلد ہی ان کاطریقہ کار لکھ دیتا ہوں

      حذف کریں
  5. sir agar media server banwna ho to kya ap bana do ga

    جواب دیںحذف کریں

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار