شاہ ولی اللہ،اور ماڈرن عمرانیات

انقلاب فرانس کو یورپ کی آزادی کا انقلاب کہا جاتا ہے۔ وہ آیا ضرور فرانس میں لیکن اس کے اثرات پورے مغرب تک پھیل گئے اور یہ جو موجودہ مغربی ترقی ہے اس کی بنیاد وہی انقلاب بنا۔ اس انقلاب کا روح رواں ژاں ژاک روسو (Jean-Jacques Rousseau) تھا جس کی کتاب "دی سوشل کنٹریکٹ" کو انقلاب فرانس کی بائبل کہا جاتا ہے۔
یہ کتاب دنیا کی تمام زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے۔ روسو کا روایتی تعلیمی پس منظر نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس نے جو بھی بڑھا ذاتی مطالعے کی بنیاد پر پڑھا۔ یہ اپنی بات سمجھانے اور اپنا دعویٰ ثابت کرنے میں اس درجے کی مہارت رکھتا تھا کہ فرانس کی" اکیڈمی" نے 1750ء میں سالانہ مقابلہ مضمون نویسی اس موضوع پر رکھا کہ علم انسان کے لئے مفید چیز ہے یا مضر ؟ وہ مقابلہ روسو نے جیتا اور اس کے مقالے کی بنیاد اس دعوے پر تھی کہ علم نقصان دہ چیز ہے۔ روسو کو کئی بار عدالت کے روبرو پیش کیا گیا اس پر مرکزی الزام یہ تھا کہ یہ لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور انہیں بغاوت پر اکساتا ہے لیکن ایک ضمنی الزام یہ بھی تھا کہ یہ مسلمانوں کے لٹریچر سے بہت متاثر ہے اور اسلامی تہذیب کا اس پر اس درجے کا اثر ہے کہ یہ مصافحہ کرتے ہوئے "السلام علیکم" کہتا ہے۔ جج نے اس سے تصدیق چاہی تو اس نے بے دھڑک تصدیق کردی۔ کہا یہ جاتا ہے کہ مسلم سپین کے دور میں جب اخوان الصفاء کے کتب خانے جلائے جانے لگے تو انہوں نے اپنا کچھ لٹریچر یورپ سمگل کردیا تھا اور یہ ان کے لئے اس لئے ممکن تھا کہ سپین میں یورپ بھر سے اہم لوگوں کے بچے پڑھنے کے لئے آیا کرتے تھے۔ وہ انہی کے ذریعے اپنا لٹریچر سمگل کروا دیا کرتے تھے۔ اسی لٹریچر کا کچھ حصہ آگے چل کر روسو کے ہاتھ لگا تو اس کے دماغ نے ماڈرن عمرانیات کو اپنا موضوع بنا کر اس پر کام شروع کردیا۔ اخوان الصفاء کی تحریک اپنے گھر میں تو گمراہ اور زیر عتاب تھی لیکن ان کی دی ہوئی روشنی ہی روسو کے ذریعے یورپ کی آزادی کا ذریعہ بنی۔ آپ نے روسو کا وہ مشہور قول تو سنا ہی ہوگا "انسان آزاد پیدا ہوا ہے مگر وہ ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے" اس کا یہ قول تک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول کا چربہ ہے جو انہوں نے مصر کے گورنر کو مخاطب کر کے کہا تھا "لوگوں کو تو ان کی ماؤں نے آزاد جنا تھا، تم کب سے انہیں غلام بنانے لگے ؟"
قابل غور بات یہ ہے ژاں ژاک روسو اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ ہم عصر تھے۔ شاہ صاحب 1703ء میں پیدا ہوئے جبکہ روسو کی پیدائش 1712ء کی ہے۔ روسو نے عمرانیات پر کام کیا اور شاہ صاحب نے بھی اس موضوع برصغیر میں پہلی بار جدید ترین خاکہ پیش کیا۔ روسو کی تحریریں انقلاب برپا کرنے میں کامیاب ہوئیں وہ بھی اس کی موت کے لگ بھگ دس سال بعد جبکہ شاہ صاحب کے عمرانی کام کو ان کے پیرو کاروں نے مکمل طور پر نظر انداز کرکے ان کا سب سے اہم کام علم حدیث کے حوالے سے کئے گئے کام کو قرار دیا یوں شاہ صاحب سیاسیات کے میدان کے لوگوں کے بجائے صرف مولویوں کے ہو کر رہ گئے۔ کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ شاہ ولی اللہ کے عمرانی کام پر آج مغرب کی یونیورسٹیوں میں گورے عیسائی پی ایچ ڈی کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کے مولوی فیس بک پر اس جھگڑے میں الجھے نظر آ رہے ہیں کہ تصوف کے حوالے سے شاہ صاحب کو قاری حنیف ڈار نے تنقید کا نشانہ بنا کر شاہ صاحب کی توہین کی ہے، ہم اسے چھوڑینگے نہیں لیکن رعایت اللہ فاروقی ہماری کمان سنبھالے ! میرے بھائیو ! ہوش میں آؤ ! شاہ ولی اللہ کی توہین پچھلی تین صدیوں سے متواتر جاری ہے اور وہ کوئی اور نہیں بلکہ ان کے پیرو کار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ مغرب نے روسو کے کام کو بنیاد بنا کر اپنے نظام حکومت کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے اور آپ کا یہ حال ہے کہ شائد جانتے بھی نہیں کہ شاہ ولی اللہ کا اصل احسان عمرانیات کے میدان میں ہے نہ کہ حدیث کے میدان میں۔ اگر آپ نے ان کے اس کام کو آگے بڑھایا ہوتا تو اسلام کے نفاذ کے لئے ٹی ٹی پی جیسے ڈھکوسلوں کے سہارے کیوں لیتے ؟ اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ اگر مغرب اکیسویں صدی میں شاہ ولی اللہ پر ریسرچ کر رہا ہے تو آپ کو یہ توفیق کیوں نصیب نہیں ہوتی ؟ میں آپ کو تب شاہ ولی اللہ کا سچا عاشق مانوں جب آپ اس میدان میں ان کی خدمات کو بنیاد بنا کر علمی کام شروع کریں۔ اگر یہ نہیں کرنا تو رعایت اللہ فاروقی کو پاگل کتے نے نہیں کاٹا کہ آپ کی دعوت پر قاری حنیف ڈار کو چار گالیاں دے کر یہ سمجھ بیٹھے کہ شاہ ولی اللہ کی سات پشتوں پر احسان ہو گیا۔ شاہ ولی اللہ پر احسان علمی میدان میں ہوسکتا ہے گالیوں کے میدان میں نہیں !

تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

0 comments:

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار