ہماری قوم کا حال (فیسبکی پوسٹ)

ہماری قوم کی سوچ اور ترقی 

امریکہ کے صدر اوبامہ ناشتے کی میز پر ہی تھے جب انھیں مطلع کیا گیا کہ ان کے لئے پاکستان کے شہر پسرور سے کسی ایک کال ہے انھوں نے فون اٹھایا تو دوسری طرف خدا بخش نام کا کوئی شخص تھا جس نے بتلایا کہ اس کا تعلق ضلع سیالکوٹ کی تحصیل پسرور کے کسی نواحی گائوں سے ہے
صدر اوبامہ نے کال کا مقصد پوچھا تو خدا بخش نے بتلایا کہ اس نے 313 کے مقدس ہندسے کے مطابق اہل ایمان کی ایک جمیعت تیار کی ہے جو دنیا میں باطل کے سب سے بڑے سرپرست امریکہ کے خلاف مقدس جنگ کا اعلان کرتی ہے، اوبامہ نے حیرت سے یہ بات سنی اور کہا کہ ویل مگر مسٹر خدا بخش آپ کو معلوم ہے کہ امریکہ کی فوج کتنے لاکھ سپاہیوں پر مشتمل ہے، خدا بخش نے کہا کہ اہل ایمان کفر کی کثرت سے گھبرایا نہیں کرتے، صدر اوبامہ نے پوچھا کہ آپ کے پاس اسلحہ کتنا ہے خدا بخش نے کہا کہ وہ کل جواب دے گا، دوسرے دن پھر خدا بخش نے فون کیا اور بتلایا کہ ان کے پاس کچھ چاقو، ہاکیاں اور دو ریوایور اور ایک عدد غیر قانونی کلاشنکوف بھی ہے، صدر اوبامہ نے کہا کہ آپ نیٹ پر ریسرچ کریں کہ امریکہ کے پاس کتنے بحری جنگی جہاز، ہیلی کاپٹر، جنگی طیارے اور دوسرے اسلحہ جات ہیں۔ اس کے بعد بات ہوگی، تیستے دن پھر خدا بخش کا فون آیا کہ اس نے اپنے دوستوں سے مشورہ کیا ہے اور جنگ کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ صدر اوبامہ نے مسکرا کر پوچھا کہ اسلحہ جات اور تعداد دیکھ کر اندازہ ہوگیا، خدا بخش نے کہا بات ایسی ہی ہے آج جب ہم لسی کی دکان پر مشورہ کر رہے تھے تو ہمیں اندازہ ہوا کہ ہمارے پورے گائوں میں اتنے گھر نہیں ہیں کہ ہم اتنے لاکھوں جنگی قیدیوں کی دیکھ بھال کر سکیں اور نہ ہی اتنے گودام ہیں کہ ہم جنگ میں ہاتھ آیا ہوا اسلحہ محفوظ کر سیکں.
نوٹ یہ فیس بک سے کاپی شدہ ہے۔

تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

0 comments:

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار