شداد کی جنت 2015 میں (ظفر جی کے قلم سے )

صاَلح عنسی شداد کا قصہ سنا رہا تھا-
ہم سب بگھی کے ھچکولے کھاتے بڑے انہماک سے سن رہے تھے-
لیکن میرا تخیل کچھ اور ہی تانے بن رہا تھا-
شداد نے چوکور میز کانفرنس بلائ....اور باغ ارم ھاؤسنگ پراجیکٹ کا اعلان کر دیا-

" میں آج سے بحیثیت بادشاہ اور فوجی سربراہ ملک بھر ایمر جنسی کا نفاذ کرتا ہوں- اور بڑے فخر سے اپنی ذاتی جّنت لانچ کرنے کا اعلان کرتا ہوں....جو مولوی اینڈ کمپنی کےلئے آؤٹ آف باؤنڈ ہوگی....اور اس کی اس خیالی جنت سے بدرجہا بہتر ہوگی جس کا جھانسا دے کر وہ پوری قوم سے سردیوں میں وضو کی مشقت کروا رہا ہے " زوردار تالیاں...اور شداد صاحب قدم بڑھاؤ قوم تمہارے ساتھ ہے.....کے نعروں کی گونج میں "باغ ارم کمیٹی " کا اعلان کردیا گیا-
یہ کمیٹی ایک ہزار اعلی افسران پر مشتمل تھی- ہر افسر کے ماتحت ایک ہزار کاریگروں کی فوج ظفر موج تھی- چونکہ حکومتی نظم و نسق "گیارہ سالہ مارشل لاء اور گیارہ سالہ فوج" کے زریں اصول پر قائم تھا چناچہ "شداد عسکری پیراڈائز کمیٹی" میں تمام ریٹائرڈ و حاضر سروس عسکری حضرات انگوٹھی میں نگینے کی طرع سماتے چلے گئے-
سب سے پہلے سرکاری نقشہ نویس مولوی مشکور سے جنت کا نقشہ بنوایا گیا- مشکور ڈبل ایجنٹ تھا- علماء میں بیٹھتا تو مولوی عبدالشکور کہلاتا اور سرکاری دفتر میں بیٹھ کر "مشکور شدادی" بن جاتا- مشکور نے علماء کی تقاریر سے نقل مار مار کر خوب محنت سے باغ ارم کا نقشہ تیار کیا-
اس کے بعد عسکری کمیٹی سر جوڑ کر بیٹھی- جنت بنانا کوئ بڑا مٌسئلہ نہیں تھا کہ سرمایہ بھی ٹھاٹھیں مار رہا تھا اور مستری بھی بے کار پھر رہے تھے- مسئلہ مجوزہ منصوبے میں اپنے نام کا بنگلہ بک کرانا تھا- کہ منصوبے کے تحت کل ایک ہزار محلات بننے تھے- اور فیصلہ سنیارٹی کی بنیاد پر ہونا تھا-
میگا پراجیکٹ کا ڈنکا بجا تو دنیا بھر سے بڑے بڑے ٹھیکیدار پچھلے پراجیکٹ چوپٹ چھوڑ کر نئے پاکستان کا نعرہ لگاتے راہیء ملک "عدن" ہوگئے-
فوری طور پر ایران، شام ،مصر، عراق اور عرب کی تمام ڈیڑھ انچی ریاستوں کو حکم شاھی ہوا کہ سونے چاندی کی کانوں سے اینٹیں بنوا کر جلد سے جلد عدن بھجوائ جائیں۔ تمام اینٹیں چوبیس قیراط کی ہونی چاھیں اور ملاوٹ کرنے والوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی-
دنیا کی بے شمار خوبصورت لینڈ سائٹس کے معائینے کے بعد شداد نے کوہِ عدن کی لوکیشن کو فائنل کیا- تین اطراف میں سرسبز پہاڑ اور ایک طرف سمندر ہونے کی نسبت یہ جگہ قدرتی طور پر جنت ارضی کا نمونہ تھی-
کمیٹی نے مجوزہ پراجیکٹ کےلیے تقریباً اٹھارہ ضرب اٹھارہ کلومیٹر کے ایک مربع پلاٹ کو اس چابکدستی سے سرکاری تحویل میں لیا کہ عدن کے پٹواریوں کو بھی خبر نہ ہوسکی-
یوں قبل مسیح کی کسی تاریخ میں دنیا کے سب سے بڑے اور مہنگے پراجیکٹ پر کام کا آغاز کردیا گیا-
سب سے پہلے فصیل کےلئے بنیادوں کی کھدائ شروع ہوئ- آتش فشانی مٹی کو کھودنا کون سا آسان کام تھا- لیکن حُکم حاکم تھا کہ بنیادیں اتنی گہری کھودی جائیں کہ زمین سے پانی نکل آئے- بنیادیں مزدوروں کے پسینے سے تر ہوگئیں تو انہیں اس دور کے انتہائ قیمتی پتھر سنگِ سلیمانی سے بھروادیا گیا۔
بنیادوں کو زمین کے برابر کرکے ان پر سونے چاندی کی اینٹوں کی دیواریں چنی گئیں۔ ان دیواروں کی بلندی اس زمانے کے گز کے حساب سے سو گز مقرر کی گئی۔ جب سورج نکلتا تھا تو چوبیس قیراط کی یہ دیواریں آنکھوں کو خیرہ کئے دیتی تھیں-


 مشکور شدادی نے اس اکیسویں ترمیم پر سائن کردیے اور یوں عوام کو خواہ مخواہ کے اضافی ٹیکس سے بچا لیا گیا-
فصیل جنت تیّار ہو گئ تو محلات بننا شروع ہوئے- ایک ہزار خوبصورت محلات کا منصوبہ تھا- اس دور میں محل کا طول وعرض اس کے ستونوں سے ناپا جاتا تھا- اس پراجیکٹ میں ہر محل کے اندر ایک ہزار ستون کھڑے کیے گئے جبکہ ہر ستون جواہرات سے جڑاؤ کیا ہوا تھا۔ ان محلات کی بکنگ بہت پہلے ہوچکی تھی- افسران بالا و عہدہ داران کمیٹی ایک طرف اپنے اپنے بنگلہ پر نظر جمائے بیٹھے تھے تو دوسری طرف دن رات عوام سے گڑگڑا کر قربانی کی اپیل کر رہے تھے-
قربانیوں کی ماری ہوئ قوم کا جوش و جنون دیدنی تھا- لوگ دھڑا دھڑ سونے چاندی کے عطیات دے رہے تھے- دوسری طرف سرکاری اہلکار بھی جزبہء حب الوطنی کا کھل کر اظہار کر رہے تھے- اشرف جوئیہ کی بچی کا زیور چھین کر اور ایک بیوہ سلمی بی بی کی بالیاں سرراہ اتار کر شداد کمیٹی کے حوالے کردی گئیں- بابا صوبے خان کو مار مار کر ادھ موا کیا گیا تب جاکر اس نے زمرد کی انگوٹھی حوالے کی- فتح بی بی طلائ ہار سمیت کنویں میں کود گئ - کمیٹی نے کچھ بحث و قد کے بعد اسے جنت بی بی کا خطاب دے کر اس کا ہار قبول کر لیا-
شداد ریڈیو اور ٹی وی پر خطاب کرکے عوام کو بتا رہا تھا کہ باغ ارم تیار ہوگا تو انہیں نوکریاں ملیں گی اور ملک عدن سے بے روزگاروں کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا- اب راج کرے گی خلق خدا.....کے نعرے سے مسحور ہوکر خلق خدا دن رات راج گیری کر رہی تھی-
اس کے بعد نہروں کی تعمیر کا آغاز ہوا- یہ نہریں مکمل طور پر سفید سنگ مر مر سے بنائ گئیں- نہروں کی دیواریں اور فرش یاقوت، زمرد، مرجان اور نیلم سے مرصح کیے گئے۔ شہر کے درمیان ایک بڑی نہر بنائی گئی اور ہر محل میں اس نہر سے چھوٹی چھوٹی نہریں لے جائی گئیں۔ محلات میں حوض اور فوارے بنائے گئے۔ ان پر بھی زر و نگار جڑے ہوئے تھے-
نہروں کے کناروں پر ایسے مصنوعی درخت بنائے گئے جن کی جڑیں سونے کی، شاخیں اور پتے زمرد کے تھے۔ ان کے پھل موتی ویاقوت اور دوسرے جواہرات کے بنواکر ان پر ٹانک دیے گئے۔رات کے وقت یہ درخت یوں جھلمل کرتے جیسے لوڈشیڈنگ میں وزراء کالونی کی بتیاں -
شہر کی دکانوں اور دیواروں کو مشک و زعفران اور عنبر و گلاب سے پلستر کیا گیا۔ یاقوت و جواہرات کے خوب صورت پرندے چاندی کی اینٹوں پر بنوائے گئے جن پر پہرے دار اپنی اپنی باری پر آ کر پہرے کے لیے بیٹھتے تھے۔
جب تعمیر مکمل ہوگئی تو شداد نے حکم دیا کہ سارے شہر میں ریشم و زردوزی کے قالین بچھا دیے جائیں۔ پھر نہروں میں سے کسی کے اندر میٹھا پانی، کسی میں شراب، کسی میں دودھ اور کسی میں شہد و شربت جاری کردیا گیا۔
کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ نہروں کی بجائے اگر برلب نہر مٹی کے مرتبان دودھ اورشہد سے بھر کر رکھ دیے جائیں تو بے کار کی محنت سے بچا جا سکتا ہے- البتہ نہروں میں خوشبودار پانی چھوڑ دیا جائے- مشکور شدادی نے اس اکیسویں ترمیم پر سائن کردیے اور یوں عوام کو خواہ مخواہ کے اضافی ٹیکس سے بچا لیا گیا-
جنتِ کے بازاروں اور دکانوں کو کمخواب و زربفت کے پردوں سے آراستہ کردیا گیا- بے شمار نئے ٹینڈر کھولے گئے- فروٹ کی دکانیں، کے ایف سی، میکڈونلڈز ، ایٹن ، اور اسٹوڈنٹ بریانی کی نئ براچیں کھل گئیں- "روز " اور "ماہ روز" بیوٹی پارلرز میں حوروں کے میک اپ کے مقابلے ہونے لگے- ہر پیشہ و ہنر والے کو حکم ہوا کہ اپنی اپنی دکانیں کھول لیں اور اس شہرجنت کے تمام باسیوں کے لیے ہر وقت ہر نوع و قسم کے آرڈر کےلئے مستعد رہیں-
بارہ سال کی مدت میں یہ پراجیکٹ تیار ہوا تو تمام امرا و ارکان ِ دولت کو حکم دیا کہ سب اس میں آباد ہوجائیں.....بائ سنیارٹی !!!
اس دن صالحین کی جماعت نے عام ھڑتال کا اعلان کیا- اور جگہ جگہ شداد کے خلاف مظاہرے کیے- ان کا کہنا تھا کہ شداد کی جنت نہ صرف رب کائنات سے بغاوت کا اعلان ہے بلکہ غریب عوام کے حقوق پر صریح ڈاکہ بھی ہے-
قبل مسیح کی کسی تاریخ کو شدّاد اپنے لاؤ لشکر کے ہمراہ انتہائی تکبر اور غرور کے ساتھ اپنی جنت کے افتتاح کو روانہ ہوا۔ اس نے اس اہم موقع پر اپوزیشن جماعتوں کے بعض علما و مصلحین کو بھی ساتھ لیا اور راستے بھر اُن سے ٹھٹھّا و تمسخر کرتا رہا-

” تم لوگوں نے جنت کا محض نام ہی سنا ہے.... مجھے ان دیکھی جنت کے لیے کسی اور کے آگے جھکنے اور ذلیل ہونے کا کہہ رہے تھے! آؤ میرے ساتھ اور دیکھو.....جنت کیا ہوتی ہے“ جب قریب پہنچا تو تمام شہر والے اس کے استقبال کے لیے شہر کے دروازے کے باہر آگئے اور اس پر زروجواہر نچھاور کرنے لگے۔

تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

0 comments:

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار