قصہ ذہانت کا۔

دنیا باتوں پر چلتی ہے۔

ناسا نے مریخ پر جانے کے خواہشمند افراد کے انٹرویو لینے کا فیصلہ کیا۔ صرف ایک ہی آدمی جا سکتا تھا اور واپسی کا کوئی بندوبست بھی نہیں تھا۔ جانے والے شخص کو اپنی خوراک اور پانی ساتھ لے جا کر بقایا زندگی مریخ پر رہ کر زمین والوں کو معلومات فراہم کرنی تھیں۔

 سب سے پہلا امیدوار پیشے کے لحاظ سے انجینئیر تھا۔ چند رسمی سوالات کے بعد اس سے دریافت کیا گیا کہ وہ سفر کا معاوضہ کتنی رقم تک وصول کرنے کی توقع کر رہا ہے۔ "ایک ملین ڈالر۔ اور یہ ساری رقم میں خلائی تحقیق کے ادارے کو ڈونیٹ کر کے جاؤں گا۔ یہ میرا زمین کو آخری تحفہ ہوگا"۔
"ایک ملین ڈالر کینسر کے علاج کی ریسرچ فاؤنڈیشن کو ڈونیٹ کروں گا تاکہ میں اپنے پیشے کو آگے نہ بھی چلا سکوں تب بھی انسانیت کی خدمت میرے نام سے چلتی رہے"

دوسرا امیدوار پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھا۔
 " آپ ہم سے کتنی رقم بطور معاوضہ وصول کرنے کی توقع کرتے ہیں ؟ "۔ ڈاکٹر نے رسانیت سے جواب دیا"دو ملین ڈالر۔ ایک ملین ڈالر میں اپنے خاندان والوں کو دے کر جاؤں گا تاکہ میرے بعد انہیں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور بقیہ ایک ملین ڈالر کینسر کے علاج کی ریسرچ فاؤنڈیشن کو ڈونیٹ کروں گا تاکہ میں اپنے پیشے کو آگے نہ بھی چلا سکوں تب بھی انسانیت کی خدمت میرے نام سے چلتی رہے"۔
 تیسرا امیدوار جب انٹرویو لینے والے کے سامنے آیا تو معلوم پڑا کہ وہ پاکستانی ہیں۔ پچھلے امیدواروں کی طرح ان سے پہلے رسمی سوالات پوچھے گئے اور پھر وہی سوال ہوا کہ پاکستانی صاحب اپنی خدمات کا کیا معاوضہ وصول کریں گے۔ صاحب نے پہلے تو ادھر ادھر دیکھا۔ پھر انٹرویو لینے والے صاحب کے کان کے پاس اپنا منہ لے جا کر سرگوشی جتنی آواز میں کہا "تین ملین ڈالر"۔ انٹرویو لینے والے شخص نے تعجب آمیز نگاہوں سے سرگوشی کو ملاحظہ کیا اور پھر اتنی ہی آہستہ آواز میں پوچھا" آپ ان دونوں پچھلے امیدواروں سے بھی زیادہ معاوضہ مانگ رہے ہیں ، اس کی کوئی خاص وجہ؟"۔
"جی ہاں"۔
 پاکستانی نے نہایت اطمینان سے دوبارہ سرگوشی کی۔ "آپ مجھے تین ملین ڈالر دیں۔ اس میں سے ایک ملین ڈالر آپکا اور ایک ملین ڈالر میرا۔ باقی بچنے والا ایک ملین ڈالر انجینئیر کو دے کر اسے مریخ پر بھیج دیں گے. منقول

تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

0 comments:

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار