سی پیک اور چینی کھانے


مرار جی ڈیسائی کے نام سے انڈیا میں ایک وزیر اعظم ہو گزرے ہیں۔ سیاست میں تو انہوں نے کوئی اچھا یا برا نام کمایا یا نہیں مگر اپنے پسندیدہ مشروب کی وجہ سے ہمیشہ امر رہیں گے۔ اور تو اور ان کے عہد میں ہمارے منبر و مساجد سے بھی خطیبوں کے یوں کوسنے سننے کو ملتے تھے: ارے او پاکستانیو، تم انڈین گانے پسند کرتے ہو اب انڈین کھانے بھی تو پسند کرو۔
سی پیک کا دور دورہ ہے، راہداری کے ساتھ ساتھ جہاں کئی کاروبار کھلیں گے، لاکھوں کو روزگار ملے گا وہیں چینی کھانوں کا بھی کاروبار پھیلے گا۔ آپ کے متوقع رجحان کو دیکھتے ہوئے چند معروف چینی کھانوں کا تعارف آپ کی نذر:
1: شارک فن سوپ
 
امراء کا کھانا ہے۔ شارک مچھلی کے (واحد کار آمد) پر کاٹ کر باقی کی ساری شارک کو مرنے کیلئے سمندر میں ہی چھوڑ دیا جاتا ہے جو حرکت نا کر سکنے کی وجہ سے تہہ میں بیٹھے بیٹھے ہی مر جاتی ہے۔ شارک کی نسل معدوم ہونے میں اس ڈش کا بہت بڑا ہاتھ ہوگا۔ ان پروں کا سوپ پی کر چینی اپنے آپ کو جوا ن جوان محسوس کرتے ہیں۔
2: پھئی دان 












 ریت، نمک اور مٹی کے ملغوبے میں کئی ہفتے دبا کر رکھے گئے ان انڈوں کو ہزار سالہ 
پرانے انڈے بھی کہتے ہیں۔ ازمنہ قدیم سے یہ بد بودار سڑانڈ والے انڈے چینیوں کی ہمیشہ ہی پسندیدہ خوراک رہے ہیں، انڈوں کی زردی جل کر گہری سبز جبکہ سفیدی سیاہ ہو جاتی ہے۔ ایسے ہی یا سلائس کاٹ کر نوڈلز پر رکھ کر کھائے جاتے ہیں۔ ہانگ کانگ میں اگر کوئی آپ کو یہ انڈہ کھانے کیلئے پیش کردے تو اس کا مطلب ہوتا کہ آپ اسے دل و جان سے عزیز ہیں۔
3: ٹرٹل جیلی
 
کچھووں کو کم از کم بارہ گھنٹے مسلسل ابال کر بنا ہوا یہ گاڑھا اور جیلی جیسا سوپ عام و خاص کی پسندیدہ خوراک ہے۔


4: چھاؤو دوفو
 
انتہائی بد بو دار سویابین کا پنیر، جس سے پرانے تارہ میرا تیل میں تلتے وقت اٹھتے ہوئے بھبھکے آپ کو ناک منہ لپیٹ کر جتنا بھاگ جانے پر مجبور کر دیں، کھانے میں اتنا ہی لذیذ ہے۔ چینی اس کی جہاں بدبو سونگھ لیں اسے کھانے کیلئے وہیں قدم گاڑ دیں۔
5: ماؤ دان 
 
ایسا انڈہ جس میں بچہ مکمل ہوچکا ہو کو ابال کر کھانا گورمے جیسی لذت پانا شمار ہوتا ہے۔ صحت افزا شمار ہوتا ہے اور توانائی کیلئے کھایا جاتا ہے۔

6: تھونگ زی دان
اسے ورجن بوائے ایگ بھی کہتے ہیں۔ انڈوں کو چھوٹے اور  خاص طور ایسے بچوں جن کی عمر دس سال سے کم ہو کے پیشاب میں ابال کر کھائے جاتے ہیں۔ کئی امراض کیلئے شافی شمار ہوتے ہیں۔ بس سٹاپ یا آمدو رفت والی جگہوں پر خوب بکتے ہیں۔

7: سنیک سوپ
 
سانپوں کے گوشت سے تیار کردہ یہ سوپ ایک زمانے تک تو رئیسوں کی حرارت آور غذا شمار ہوتی تھی مگر اب سانپوں کی آسان فارمنگ کی وجہ سے ہر ایک کی دسترس میں ہے۔ سردیوں میں حرارت کیلئے پیا جاتا ہے۔

8: لیو رو خوا شاؤ یا ڈنکی میٹ برگر
 
جو بیجنگ میں جائے اور وہاں کے لذیذ گدھے کے گوشت کا برگر کھائے بغیر آ جائے ایسا ہی ہے جیسے وہ بیجنگ گیا ہی نہیں۔ اب گدھے کے نایاب ہوتے گوشت کی وجہ سے نچلے طبقے کی دسترس سے نکلتے جا رہے ہیں تاہم انہیں کھانا ہر ایک کا خواب ہوتا ہے۔

9: ڈک بیک
 
مانگ کے لحاظ سے معروف اس ڈش کو آدمی بس دیکھ دیکھ کر یہی سوچتا ہی رہ جائے کہ جس نے ان چونچوں کو کھانے کیلئے آرڈر کیا ہے اسے کتنا ایک گوشت مل پائے گا ان کو کھا کر۔ تاہم اب یہ یہ مہنگے ہوٹلوں پر ہی کھانے کیلئے ملتی ہیں۔

10: ڈک فیٹ / چکن فیٹ
 
تازہ پکے ہوئے، ابلے ہوئے یا پھر پکا کر یا ابال کر ایئر ٹائٹ پیکنگ میں ہر چھوٹی بڑی دکان پر بکتے یہ پنجے سب چھوٹے بڑوں کی پہلی پسندیدہ اور مرغوب غذا ہیں۔ بس یا گاڑی کے اڈے پر کسی بھی مسافر کی تلاشی لے لو، کچھ اور ملے یا نا ملے چالیس پچاس یہ پنجے ضرور مل جائیں گے۔


 یہ تحریر محمد سلیم بھائی نے فیس بک پر شائع کی تھی تو مزیدار کھانوں سے تعارف کے لئے آپ کے ساتھ اس کو شئیر کر رہا ہوں ۔اگر پکائیں تو ہمیں یاد رکھنا بھول جائیں ۔ شکریہ  :P

تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

0 comments:

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار