خراب ہارڈ ڈسک کو ٹھنڈا کر کے اس سے ڈیٹا ریکور کریں.

اسلام علیکم: آج میں آپ کو ایک بہت ہی دلچسب طریقہ بتلاؤ گا۔یہ طریقہ میں نے اردو نامہ پر لکھا تھا مگر اس کی مکمل وضاحت  چاند بابو نے کی تھی۔ میں یہ طریقہ یہاں شئیر کر رہا ہوں تاکہ آپ بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔


سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہارڈ ڈسک کو فریز کرنے کے عمل میں ٹھنڈک آپ کے ڈیٹا کو کچھ نہیں کرتی ہے اور یہ خیال بالکل غلط ہے کہ ٹھنڈا کرنے پر ہمیشہ ہارڈ ڈسک درست کام کرے گی.
دراصل ہم سب ہی جانتے ہیں کہ ہارڈ ڈسک میں بہت ساری حرکت کرنے والی اشیاء موجود ہوتی ہیں اور ہم سب یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہارڈ ڈسک میں ان اشیاء کی حرکت سے کافی حرارت بھی پیدا ہوتی ہے.
اب کچھ کیسز میں ہوتا کچھ یوں ہے کہ اس حرکت اور حرارت سے کچھ کل پرزے پھیلاؤ اختیار کر لیتے ہیں اور وہ جگہ جہاں پر یہ پرزے فٹ ہوتے ہیں وہاں اتنی زیادہ حرارت نہیں ہوتی ہے کہ وہ بھی ان کے ساتھ ہی پھیل سکے. یہ پھیلنے والے پرزے اپنی موجود جگہ میں ایڈجسٹ نہیں ہو پاتے ہیں اور حرکت کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں، اور جب یہ پرزے حرکت نہیں کرتے ہیں تو پھر ہارڈڈسک پر موجود ڈیٹا پڑھنے میں مشکلات پیش آتی ہیں. یہ طریقہ عام طور پر تب ہی کارگر ہے جب ہارڈ ڈسک کے خراب ہونے کی وجہ spindle کا پھیلاؤ ہو. spindle وجہ گول چکر ہے جس کے اوپر آپ کی ہارڈ کی پلیٹس یعنی Platters گھومتی ہیں.
اب جب ہم کچھ منٹ کے لئے اس ڈسک کو فریز کرتے ہیں تو چونکہ یہ پرزے چھوٹے ہوتے ہیں اس لئے سب سے پہلے ٹھنڈک کا اثر یہ قبول کرتے ہیں اور ٹھنڈے ہو کر سکڑاؤ اختیار کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ دوبارہ اپنی پہلے والی حالت میں آ جاتے ہیں. اور جب ہم دوبارہ ہارڈ چلاتے ہیں تو یہ پرزے کام کرنا شروع کر دیتے ہیں مگر چند منٹ تک یا تب تک جب تک یہ ٹھنڈے رہتے ہیں اور جیسے ہی ان پر حرارت دوبارہ اثر کرتی ہے وہ پھر سے اٹک جاتے ہیں اور کام کرنا بند کردیتے ہیں. اس کا حل یوں بھی کیا جا سکتا ہے جیسا کہ اشفاق بھیا نے کہا ہے کہ اسے آئس بیگ میں رکھ کر کام کیا جائے یا پھر اسے فریزر میں ہی رکھا جائے اور لمبی ڈیٹا کیبل سے اسے کمپیوٹر سے کنکٹ کر دیا جائے. 
تو دوستو یہ ہے اس کام کے پیچھے کارفرما تھیوری.
مگر یاد رہے کہ ہر خراب ہارڈ ڈسک پر یہ عمل اثر نہیں کرتا ہے یہ کوئی پروفیشنل ہی بتا سکتا ہے کہ آیا ہارڈ میں موجود پرزے پھیلاؤ کی وجہ سے کام کرنا بند کر چکے ہیں یا کوئی اور مسئلہ ہے. اگر تو مسئلہ یہی ہے تو پھر یہ طریقہ کارگر ہو سکتا ہے مگر ہمیشہ پھر بھی نہیں.

یاد رہے انٹرنیٹ پر موجود ڈیٹا ریکوری کے ماہرین اس آئیڈیا کو ایک بدترین آئیڈیا کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ Platters ہارڈ ڈسک میں موجود پلیٹس سپر سنسٹو Super sensitive ہوتی ہیں اور درجہ حرارت کا بدلاؤ ان میں توڑ پھوڑ کا باعث بن کر آپ کے ڈیٹا کا ہمیشہ کے لئے نقصان کر سکتا ہے.

ساری تحریر کا نچوڑ یہی بنتا ہے کہ اگر آپ کا ڈیٹا بہت قیمتی ہے اور آپ کوئی ڈیٹا ریکوری کے ماہر نہیں ہیں تو یہ طریقہ ہرگز نہیں اپنانا چاہئے اگرچہ آپ کو صد فیصد یقین ہی کیوں نا ہو کہ ہارڈ خراب ہونے کی وجہ Spindle ہی ہے.

بہرحال اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ اپنی ہارڈ ڈسک کے لئے یہ طریقہ آخری طریقے کے طور پر آزما کر دیکھیں تو اس کا طریقہ کار درج ذیل ہے.
ہارڈ ڈسک کو ٹھنڈا کر کے اس سے ڈیٹا ریکور کرنے کا طریقہ

سب سے پہلے تو ضروری ہے کہ ہارڈ ڈسک میں موجود مختلف پرزوں کے نام آپ کے علم میں ہوں اس کے لئے ذیل میں موجود تصویر کا مطالعہ کیجئے.



تو چلئے اب تیار ہو جایئے اس طریقہ کے مطابق عمل کرنے کے لئے.

اس کام کے لئے درکار اشیاء
ایک کمپیوٹر
خراب ہارڈ ڈسک جو آپ درست کرنا چاہتے ہیں
ایک فریزر
اور بہت ساری خوش قسمتی

مطلوبہ عمل

سب سے پہلے ہارڈ ڈسک کو کسی پلاسٹک بیگ میں لپیٹ لیں اور یہ تسلی کر لیں کہ اس میں نمی کا اثر نہ ہونے کے برابر رہ جائے. یاد رہے کہ پلاسٹک بیگ میں رکھنے کے باوجود نمی اس کے اندر ضرور جائے گی مگر یہ عمل کم سے کم کیا جا سکتا ہے.
اب اس لپٹی ہوئی ہارڈ ڈسک کو اپنے فریزر میں بارہ گھنٹے کے لئے رکھ دیں.

اب بارہ گھنٹے بعد اس ہارڈ ڈسک کو نکال لیں اور اپنے کمپیوٹر کے ساتھ کنکٹ کر لیں.
اگر تو مسئلہ وہی ہے جو اوپر بتایا گیا ہے تو پھر آپ کی ہارڈ دوبارہ سے درست کام کرنے لگے گی اور اس میں موجود ڈیٹا پڑھا جائے گا اب جلد سے جلد اپنا ڈیٹا کسی دوسری ہارڈ ڈرائیو میں محفوظ کر لیں کیونکہ جیسے ہی دوبارہ سے ہارڈ کا درجہ حرارت بڑھے گا یہ پھر سے کام کرنا بند کر دے گی اور پھر شاید یہ طریقہ دوبارہ سے گارگر نہ ہو سکے.
اگر کام کے دوران ہارڈ کام کرنا بند کر دے تو کمپیوٹر بند کر کے ہارڈ فورا اتار دیں تاکہ یہ پھر سے کچھ ٹھنڈی ہو سکے اور شاید دوبارہ کام کرنا شروع کر دے اور آپ اپنا پورا ڈیٹا ریکور کر سکیں.

بشکریہ اردو نامہ

تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

0 comments:

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار