کیا ہم مغرب کے اصولوں پر چل کر کامیاب ہو سکتے ہیں؟َ

آج  میری نظر سے اوریا مقبول جان کا ایک کالم "تحریکیں زور کیسے پکڑتی ہیں"گزا۔ان کے کالم تو ان بادشاہ لوگوں کے لئے ہوتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ مغرب کے اصول ہی رہنما اصول ہیں۔مگر یہ الگ بات ہے کہ ہمارے جیسے کم عقل لوگ ہی ان کی بات سے 100٪ متفق ہو پاتے ہیں۔اوریا مقبول جان کا مختصر سا تعارف  آپ یہاں ملاحضہ کر سکتے ہیں۔

تحریکیں زور کیسے پکڑتی ہیں


دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ہو جس میں مختلف اوقات پر زور دار تحریکیں نہ چلی ہوں اور انھوں نے حالات کا رخ نہ بدلا ہو۔ ہر ملک کے عوام کے مزاج، ماحول اور اقتدار کی مسند پر متمکن حکمرانوں کے رویے کے ردعمل کے نتیجے میں تحریکیوں کا مزاج بھی بدلتا رہا ہے۔


لیکن آج یہ تصور بہت زور شور سے پیش کیا جاتا ہے کہ تحریکیں، انقلاب اور انار کی صرف اور صرف ڈکٹیٹر شپ میں جنم لیتی ہیں اور کسی بھی ملک میں اگر جمہوری طور پر الیکشن ہوتے رہیں، نظام کا ایک تسلسل قائم رہے تو یہ ملک کو پرامن رکھنے اور فساد سے پاک بنانے کی ضمانت ہوتا ہے۔

جمہوری حکمرانوں کا رویہ، مزاج اور طرز حکومت جیسا بھی ہو، لوگ ان کے خلاف بغاوت کے لیے آمادہ نہیں ہوتے، وہاں کوئی تحریک منظم نہیں ہوپاتی، ان ملکوں میں عوامی غیظ و غضب کسی تبدیلی یا انقلاب کا ذریعہ نہیں بنتا۔ اس تجزیے سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تاریخی طور پر دنیا میں امن اسی وقت قائم ہوا، انسان نے سکون اور اطمینان کی شکل صرف اسی دور میں دیکھی جب دنیا نے حکمرانی کے لیے جمہوریت کا راستہ اختیار کیا۔ ورنہ اس سے پہلے تو اس دنیا میں چین تھا نہ اطمینان، بس ایک غلامانہ زندگی تھی۔

یہ دنیا ہزاروں سال سے آباد ہے اور اس کی معلوم تاریخ پانچ ہزار سال پر پھیلی ہوئی ہے۔ لیکن اس میں جمہوریت اور عوام کی حکمرانی کے تصور کی عمر صرف دو سو سال کے لگ بھگ بنتی ہے۔ ان دو سو سالوں میں پہلے سو سال تو جمہوریت نام کی چڑیا کے ابھی پر بھی نہیں نکلے تھے۔ جہاں تک ایک شخص ایک ووٹ کا تصور ہے اس کی تاریخ بھی اتنی پرانی نہیں ہے۔ مغربی جمہوریتوں میں عورتوں کو ووٹ دینے کا حق 1920ء کے لگ بھگ ملنا شروع ہوا اور سوئٹزر لینڈ میں تو خواتین کو ووٹ دینے کا اختیار 1973ء میں ملا۔ یعنی اس معاملے میں پاکستان ان سے تین سال آگے تھا۔
ہم 1970ء میں ایک فرد ایک ووٹ کے تصور پر عمل کرتے ہوئے الیکشن کروا کر 1971ء میں اپنا آدھا ملک گنوا بیٹھے تھے۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ بادشاہوں اور آمروں کے زمانے میں بھی لوگ چین کی بنسی بجاتے رہے اور جمہوری طور پر منتخب حکمرانوں کے زمانے میں بھی تحریکیں جنم لیتی رہیں، تبدیلیاں آتی رہیں، بحران کی کیفیت اور انارکی پھیلتی رہی۔
دنیا کی سب سے قدیم جمہوریت برطانیہ میں ایک ایسی تحریک چلی تھی جس کے نتیجے میں لوگوں نے ایک عوامی عدالت لگائی اور 30 جنوری 1649ء میں اپنے بادشاہ چارلس اول کا سرگیلوٹین کے تیز دھار چھرے سے کاٹ دیا۔ اس وقت برطانیہ میں الیکشن بھی ہوتے تھے اور پارلیمنٹ بھی موجود تھی۔ اس کے برعکس اسی دور میں دنیا کے اکثر ممالک بادشاہتوں کے زیر اثر تھے مگر وہاں چند ایک ممالک کو چھوڑ کر کہیں کوئی بدامنی، انارکی یا تحریکی صورت حال نظر نہیں آتی۔
دنیا بھر کی لائبریریوں میں ایسی ہزاروں کتابیں اور لاکھوں تحقیقیں موجود ہیںجو کسی علاقے، ملک یا قوم میں تحریکوں کے پس منظر سے پردہ اٹھاتی ہیں۔ ان سب میں ایک بات پر اتفاق پایا جاتا ہے اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو تحریکیوں کے جنم لینے کی اصل وجہ بنتا ہے۔ اس نکتے کودنیا میں کہانی کہنے، سنانے اور لکھنے والوں نے کس خوبصورتی سے چند لائنوں میں سمیٹا ہے۔
دنیا کے کسی ملک کی کہانی اٹھالیں‘ اس میں اس طرح کے فقرے مشترک ملیں گے ’’ایک تھا بادشاہ، اس کے دور میں رعایا خوشحال، شہر پر امن اور حالات پر سکون تھے، اس لیے کہ وہ اس قدر منصف مزاج تھا کہ اس کے دور میں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے تھے‘‘ جب کہ اس کے برعکس کسی ظالم بادشاہ کو اس طرح بیان کریں گے کہ ’’بادشاہ ظالم تھا اس کے دور میں انصاف نام کو بھی نہ تھا۔ اس کے اہل کار لوٹ کھسوٹ میں لگے ہوئے تھے اور لوگوں کی زندگی عذاب تھی‘‘۔
پر سکون اور مطمئن رعایا ایک ایسا میدانی دریا ہوتی ہے جو انتہائی اطمینان کے ساتھ زمین کے سینے پر اپنا سفر جاری رکھتی ہے جب کہ ایک غیر مطمئن اور ظلم سے تنگ عوام کا حال پہاڑی ندی نالوں کی طرح ہوتا ہے جو ہر پتھر سے سر ٹکراتا، شور مچاتا بہتا چلا جاتا ہے۔ تحریکوں اور انارکی کے بڑے بڑے تجزیہ کار اور مفکر کسی ایسے معاشرے کی مثال ایک آتش فشاں کی طرح ہیں جس کے اندر لاوا جوش مار رہا ہوتا ہے لیکن اس کے دہانے پر موت کا سا سکوت ہوتا ہے۔
دوسری مثال وہ Tipping پوائنٹ کی دیتے ہیں جسے ایک گدھے سے تشبیہ دی جاتی ہے کہ آپ اس پر لکڑیاں لادتے جاتے ہیں۔ وہ برداشت کرتا رہتا ہے، کئی من لکڑیوں کے باوجود بھی وہ کھڑا رہتا ہے لیکن پھر اچانک ایک لکڑی آپ رکھتے ہیں تو وہ ہربڑا کر بوجھ نیچے گرا دیتا ہے۔ ہر وہ معاشرہ جس میں لوگ مر مر کر زندگی گزار رہے ہوں، انھیں ضروریات زندگی تک میسر نہ ہوں، ان پر انصاف کے دروازے بند کردیے جائیں، چند گروہ ان کو لاٹھیوں سے ہانکتے رہیں تو اس معاشرے میں کسی بھی تحریک کا مواد اور میٹریل کثرت سے موجود ہوتا ہے۔
یہ وہ غم و غصہ ہوتا ہے جس کا اظہار لوگ گھروں، دفتروں اور نجی محفلوں میں کرتے ہیں لیکن انھیں سمجھ نہیں آتی کہ ان کا یہ غصہ اور غضب کیسے حکمرانوں تک پہنچے۔ کبھی بجلی، پانی یا گیس بند ہونے پر سڑک پر نکل آتے ہیں، کبھی اپنے بے گناہ مقتول کی لاش اٹھا کر کسی ایوان کے سامنے دھرنا دیتے ہیں اور کبھی ناانصافی کے خلاف کسی پریس کلب یا شارع عام پر پلے کارڈ لے کر کھڑے ہوتے ہیں۔ ایک عادل اور منصف مزاج حکمران جسے سیاسی بصیرت بھی حاصل ہو وہ فوری طور پر اس غم و غصہ کے ازالے کی طرف توجہ دیتا ہے تاکہ اس غبارے میں ہوا نہ بھرنے پائے جب کہ سیاسی بصیرت سے عاری حکمران بہانہ بازیوں سے ٹالتا رہتا ہے، ان سب کو سازشی عناصر قرار دیتا ہے اور جمہوریت نے تو ان کو ایک اور لفظ سکھا دیا ہے کہ ’’یہ سسٹم کو پٹڑی سے اکھاڑنے کی کوشش ہو رہی ہے‘‘۔
صدیوں سے لوگوں پر حکمران رہنے والے بادشاہ اور بدترین آمر بھی اس حقیقت کو جانتے تھے کہ ایک غیر مطمئن رعایا پر حکومت نہیں کی جاسکتی، وہ ہر حال میں اسے خوش رکھنے کی کوشش کرتے، کیونکہ انھیں دوسرے بادشاہ کے حملے کا خوف ہوتا تھا کہ اگر ایسے وقت میں قوم ان کے ساتھ نہ ہوئی تو شکست یقینی ہے۔ آمروں اور ڈکٹیٹروں کو بھی اس کا ارداک ہوتا ہے اور جس کو نہیں ہوتا وہ عبرت کی مثال بن جاتا ہے۔
جب انقلاب فرانس آیا تو انگلستان کی معاشی غربت فرانس سے بدتر تھی۔ لوگ غربت کا شکار تھے لیکن وہاں فرانس کی طرح کوئی یہ کہہ کر تمسخر اڑانے والا نہیں تھا کہ ‘‘ اگر روٹی نہیں ملتی تو کیک کیوں نہیں کھاتے‘ یا پھر گھاس بہت ہے جاؤ اور کھاؤ‘‘ تاریخ بتاتی ہے کہ جس نے یہ کہا تھا‘ لوگوں نے پہلے اس کے منہ میں گھاس بھری اور پھر اس کی گردن تن سے جدا کر دی۔ یہی فضا ہوتی ہے جس میں کوئی بھی نعرہ‘ کوئی بھی آواز جو حکمرانوں کے خلاف بلند ہوتی ہے وہ لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹ لیتی ہے۔ کسی کو اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ کونسا نعرہ بلند ہو رہا ہے یا کون اس کی قیادت کر رہا ہے۔
وہ تو اپنا اپنا غصہ اور اپنی اپنی نفرت لے کر ساتھ چل پڑتے ہیں۔ کسی کو پولیس نے تنگ کیا ہوتا ہے‘ کسی کی زمین پٹواری نے ہضم کی ہوتی ہے‘ کسی کو میرٹ سے انکار پر نوکری نہیں ملی ہوتی، کوئی سیاسی گروہوں کے ظلم سے تنگ ہوتا ہے، کسی کے باپ یا بیٹے نے خود کشی کی ہوتی اور کوئی رات بھر بھوک، بیماری اور لوڈشیڈنگ کے عذاب سے لڑ کر آیا ہوتا ہے۔ یہ لوگ ہر اس گروہ کے گرد جمع ہو جاتے ہیں جو حکومت اور سرکار کے مقابل آ کر کھڑا ہو جائے۔ انھیں نہ جمہوریت کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی شریعت کا، وہ نہ مزدور کے حقوق کے لیے کمیونزم چاہتے اور نہ ہی شفاف انتخابات، ان کا غصہ اجتماعی نفسیات بن جاتا ہے۔
قوموں کی یہ اجتماعی نفسیات آج دنیا کے ماہرین کا سب سے بڑا موضوع ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ قومی غصے کی اجتماعی نفسیات حکمرانوں کے زوال کا باعث اس وقت بنتی ہے جب وہ ریاستی طاقت سے اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ پہاڑی ندی نالے کی طرح شور مچاتے عوام حکومتی طاقت سے سر ٹکراتے ہیں اور پھر یوں بپھرتے ہیں کہ دامن میں آباد ہر بستی کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتے ہیں۔ دانا لوگ ان شوریدہ سر نالوں پر بند نہیں باندھتے، گزرنے دیتے ہیں لیکن نادان اپنی طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے خود کو بدترین انجام تک لے جاتے ہیں۔
میں نے مثال یہ دی تھی کہ دنیا کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی نے یہ ثابت کر دیا کہ بینکاری سود کے بغیر پچاس سال سے ایک کمپنی چلائی جا سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: موصوف کالم نگار کے میرے ذات کے بارے میں سوالات کا میں جواب نہیں دینا چاہتا تھا لیکن انھوں نے پھر معاملہ چھیڑا ہے اور اب چونکہ معاملہ سود کا ہے اس لیے عرض کردوں کہ سود جی پی فنڈ پر ملتا ہے اور میں نے آج سے 25 سال قبل لکھ کر دے دیا تھا کہ میرے جی پی فنڈ پر سود نہ ڈالا جائے۔ اب مجھے ریٹائرمنٹ پر مبلغ آٹھ لاکھ روپے ملیں گے لیکن اگر سود لیتا تو 39 لاکھ کے قریب ملتے۔ میرا ریکارڈ اکاؤٹنٹ جنرل کے دفتر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ جہاں تک اس کار ساز کمپنی کا تعلق ہے وہ جاپان کی ایک غیر مسلم کمپنی ہے جسے سود کی حرمت کی کسوٹی پر رکھ کر نہیں رکھا جاتا۔
میں نے مثال یہ دی تھی کہ دنیا کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی نے یہ ثابت کر دیا کہ بینکاری سود کے بغیر پچاس سال سے ایک کمپنی چلائی جا سکتی ہے۔
مگر کیا کیا جائے سود کے دفاع کرنے والوں کی بھی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ انھیں اگر اللہ کے بتائے گئے اصولوں پر کامیابی نظر آ جائے تو ان کے دل جل اٹھتے ہیں۔ وہ پیچ و تاب کھاتے ہیں کہ کہیں سے کوئی برائی نکالو تاکہ اللہ کے بتائے اس اصول کا تمسخر اڑایا جا سکے۔ اللہ انھیں خیر دیکھنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے


تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

0 comments:

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار