حقیقت کو سمجھیں کہ طالبان،قبائلی،اورتحریک طالبان ایک نہی۔

مجھے یقین ہے کہ میری اس تحریر سے بہت سے لوگوں کو اختلاف بھی ہو گا نہ جانے مجھے کیا کیا القابات دیئے جائیں گیں مگر آج میں نے قلم اٹھانا ضروری سمجھا ہے کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ اگر انسان آپنے احساسات اور جذبات کو اگر بیان نہ کرے تو وہ انسان نہی پتھر کہلاتا ہے مجھے دکھ ہے آرمی کے اسکول میں مظلوم پچے شہید ہوئے ہیں اور اس بات پر پوری قوم اکھٹی ہو گئی ہے حتیٰ کہ سیساسی لوگ ایک دورے کے قریب آ گے ہیں۔اور انہوں نے طالبان کے خلاف لڑنے کا عزم بھی کر لیا ہے۔
مگر مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ اس ساری بات میں طالبان کو بدنام کیا جا رہا ہے جو کہ حقیت میں اسلام کی بدنامی ہے
 یہاں پر ضرورت اس بات کو سمجھنے کی ہے کہ آیا کہ یہ حملہ طالبان نے کیا ہے یا کسی اور نے؟؟

مگر مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ اس ساری بات میں طالبان کو بدنام کیا جا رہا ہے جو کہ حقیت میں اسلام کی بدنامی ہے۔ یہاں پر ضرورت اس بات کو سمجھنے کی ہے کہ آیا کہ یہ حملہ طالبان نے کیا ہے یا کسی اور نے؟؟


پاکستانی فوج کے جنرل کے امریکہ کے دورے سیکورٹی سسٹم پر تبادلہ خیال کیا یہ بات ثابت نہی کرتی کہ یہ ایک سازش کے تحت ہوا ہےاوپر سے ہمارے وزیر اعظم کا بیان کہ اب اچھے برے طالبان کے خلاف بلا تفریق کاروائی کی جائے گی۔آپ لفظ اچھے برے پر زرہ غور کریں۔
طالبان کون ہیں؟
طالبان دراصل پاکستانی اور افغستانی طالبعلم ہیں جو سویت یونین اور اس کے بعد اب امریکہ سے جہاد فی سبیل اللہ ملا محمد عمر کی قیادت میں کر رہے ہیں۔طالبان کا معنی ہی طالب علم ہے۔آپ طالبان اور ملا محمد عمر کے بارے میں مزید ان روابط سے جان سکتے ہیں اور آپ کو تحریک طالبان اور (اصلی طالبان)اور قبائلی جنگجو کے بارے میں پتہ چل جائے گا۔

طالبان پاکستان کے لئے اجنبی اس لئے بھی نہ تھے کہ آئی ایس آئی کے روابط جہادی تنظیموں سے افغان جہاد سے ہی قائم تھے اور طالبان بھی ان تنظیموں کا ہی حصہ رہے تھے ۔ پھر طالبان نے افغانستان میں اپنے زیر کنٹرول علاقوں سے نہ صرف یہ کہ پاکستان مخالف عناصر بالخصوص بھارتی عناصر کا مکمل صفایا کردیا بلکہ ڈیورنڈ لائن کو بھی پاکستان کے لئے مکمل محفوظ کردیا  
قبائلی کون  ہیں اور وہ کیا چاہتے ہیں لیکن اگر آپ پہلے اس لنک کو دیکھ لیں تو امید کرتا ہوں آپ کو ان کی جنگ کی وجہ سامنے آ جائے گی۔
میں نے اس حملے پرجب طالبان کا موئقف جاننے کی کوشش کی کو تومجھے کیا ملا آپ بھی ملاحضہ کریں
منگل کےروز 2014-12-16 مقامی وقت کے مطابق دن دس بجے کے لگ بھگ پاکستان کے صوبہ خیبر پشتونخوا کے پشاور شہر میں ایک اسکول پر حملہ ہوا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب تک دو سو 200 افراد جان بحق اور زخمی ہوئيں، جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اکثریت بچوں کی ہے۔
امارت اسلامیہ مذکورہ سانحہ پر شدید دکھ کا اظہار کرتی ہے اور جان بحق ہونے والے کی خاندانوں کی غم میں برابر کے شریک ہے۔
بے گناہ افراد، خواتین اور بچوں کا جان بوجھ کر قتل اسلامی اصول کے خلاف عمل ہے اور اس اصل کو ہر مسلمان تنظیم اور حکومت مدنظر رکھے۔
امارت اسلامیہ نے ہمیشہ موقع پر بے گناہ افراد اور بچوں کی ہلاکت کی مذمت کی ہے، کچھ عرصہ قبل صوبہ پکتیکا ضلع یحی خیل میں کھیل کے میدان اور صوبہ ننگرہار میں ایک مسجد میں دھماکوں کے متعلق امارت اسلامیہ نے دکھ بھرے  پیغامات صادر کی تھی اور ان اعمال کو اسلامی معیار کے خلاف عمل سمجھا تھا۔
ذبیح اللہ مجاہد ترجمان
امارت اسلامیہ افغانستان
24/صفرالمظفر 1436ھ
16/ دسمبر 2014 ء
اور پھر میں نے سوچا کہ اگر یہ حملہ طالبان نے نہی کیا تو کیا کس نے اس پر مجھے ٹی ٹی پی کا ایک پہت ہی افسوس ناک چہرہ دیکھنے کو ملا ان کا کہنا کچھ یوں تھا۔


یہ تو تھا ٹی ٹی پی کا مؤقف مگر میں نے جب قبائیلیوں کو دیکھا تو ان میں سے کچھ خوشی اور کچھ غم کا اظہار کرتے نظر آئے۔غم کا اظہار کرنے والوں کا ںظریہ تو آپ جیسا تھا مگر جو خوشی منا رہے تو وہ کہتے تھے کہ

بدلہ مل گیا آج فوج کو پتہ چلے گا کہ جب ہمارے بیٹے بچے مرد جوان مارے جاتے ہیں تو کیا بیتی ہے

اس بات کی مثال اس نے کچھ یوں دی کہ اگر تمہارے گھر پر ڈرون گرے اور تمہار سب گھر والئے مارے جائے یا پاکستانی فوج کی بمباری سے تمارے بچے شہید ہو جائیں تو کیا تم ہتھار نہی اٹھاؤ گے؟؟ 
پھر تمہیں یہ نہی ہو گا کہ وہ ہتھار کسی انڈیا یا اسرائیل کے اجنیٹ نے دیا ہے بس تمہاری سوچ ہو گی انتقام اور یہ کہ کر اس نے مجھے کچھ تصاویر ارسال کر دی اور میں سوچتا رہ گیا کہ آیا غلطی کس کی ہے ہماری فوج کی جس نے امریکہ کواڈے دیئے یا ہماری قوم کی جو غلامی کے اندھیروں میں بٹھک چکی ہے
مگر حقیقت یہی ہے کہ ان سب کے پچھے بدنام اسلام کو کیا جا رہا ہے۔

قبائلی عوام ہتھار کیوں اٹھاتے ہیں ایک قبائلی کی ارسال کردہ تصاویر



نوٹ: جملہ حقوق محفوظ ہیں۔اس آرٹیکل کو بغیر اجازتِ مصنف کسی اور جگہ شائع نہیں کیا جا سکتا۔  از محمد اسفند

تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

1 تبصرہ:

  1. حیران کیوں ہوتے ہو یہ تو وہی آگ ہے جو ہم نے پچھلے پندرہ سال سے افغانستان اور قبائلی علاقوں میں بھڑکائی ہے اور مسلسل اسے جلنے کے لیے تیل فراہم کیا ہے اور آج یہ آگ ہمارے گھروں تک پہنچی ہے تو ہمیں اس میں دہشت گردی کی بُو آنے لگی ہے آٹھ لاکھ افغانوں اور ہزاروں قبائلی بچے مارنے کے بعد ہمیں بچوں کا قتل ظلم دکھائی دے رہا ہے. سچ کڑوا ہے مگر سچ ہے کہ ہم نے جو بویا تھا وہ کاٹ رہے ہیں. کابل سے پشاور تک تمام بچوں کا خون ہمارے ہاتھوں پر ہے. لہذا کالی تصویر کی بجائے یہ کالک اپنے اپنے منہ پہ مل لی جائے تو زیادہ بہتر ہے. اللہ سےتوبہ کرو اور دعا کرو کہ وہ ہمیں اس عذاب سے بچائے جس کے ہم مستحق ہو چکے ہیں.

    جواب دیںحذف کریں

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار