پاکستان کی فارن پالیسی حصہ اول : ہمارے دوست اورعرب ممالک

ہوا یہ کہ جب یمن کا ایشو گرم ہوا تو فیس بک پر ایرانی لابی سرگرم ہوگئی اور ہمارے اپنے نوجوان دوست جنہیں پاکستان کی فارن پالیسی کا کچھ بھی پتہ نہیں تھا وہ اس پروپیگنڈے میں ان کا ساتھ دینے لگے۔ دوسری طرف مذہبی طبقہ جو "علماء ہند کا شاندار ماضی" کے علاوہ تاریخ کی کسی کتاب کو چھوتا بھی نہیں وہ محض فرقہ وارانہ پوسٹوں اور کمنٹس پر اتر آیا تو ایسے میں خیال آیا کہ کیوں نہ ان بچوں کو دوتین قسطوں میں پاکستان کی خارجہ پالیسی سمجھا دی جائے تاکہ یہ دوسروں کے پروپیگنڈوں کا بھی شکار نہ ہوں اور فرقہ وارانہ کی بجائے سیاسی بنیاد پر اس ایشو پر گفتگو کی پوزیشن میں آجائیں۔ اپنے اندر جھانک کر دیکھا تو یہی سمجھ آیا کہ اس موضوع پر میں دو سے تین قسطیں ہی لکھ پاؤنگا لیکن جب کیبورڈ پر ہاتھ چلنے شروع ہوئے تو یہ داستان اتنا طول پکڑنے لگی جس سے اب میں خود تنگ آگیا ہوں۔ کل افغان ایشو کو مکمل کرکے اس سے اگلی قسط میں بحث سمیٹ کر فارن پالیسی ایشو سے نکلنے کی کوشش کرونگا کیونکہ کسی چیز کا حد سے طویل ہونا اس کا اثر زائل کر دیتا ہے۔

 پاکستان کی خارجہ پالیسی۔ پہلی قسط:::ہمارے دوست اور عرب ممالک

::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::؛

  ہاکستان کی فارن پالیسی کے بنیادی پلرز سمجھ لیجئے تاکہ آپ کو مشرقی وسطیٰ کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات کا تجزیہ کرنے میں آسانی رہے۔ اس موضوع کو دو سے تین قسطوں میں انشاء اللہ نمٹانے کی کوشش کرونگا۔

دنیا میں پاکستان کے صرف دو ایسے دوست ملک ہیں جن کے لئے پاکستان برضاء و خوشی کسی بھی حد تک جا سکتا ہے، اس کے لئے ان ممالک کا صرف کال کرنا کافی ہے۔ یہ دو ممالک سعودی عرب اور چین ہیں۔

(الف) حجاز مقدس صدیوں سے اپنی پیداوار کے لحاظ صفر تھا نہ اس کی کوئی صنعت تھی اور نہ ہی زراعت نتیجہ یہ کہ غربت بے تحاشا تھی۔ قیام پاکستان تک برصغیر کے نواب، رئیس اور سلاطین اپنی زکوٰۃ و عطیات اہل مکہ و مدینہ پر خرچ کرنے کو ہی ترجیح دیا کرتے تھے جو حج کے موقع پر بھیجے جاتے تھے اور یہ اس پیمانے پر ہوتے کہ ان کے پورے سال کی ضرورت پوری ہوتی تھی۔ آگے چل کر جب سعودیہ بنا اور تیل دریافت ہوا تو یہ عرب اپنے پرانے محسنوں کو نہیں بھولے۔ مسلمان ممالک تو وسطی ایشیا اور مشرق بعید میں بھی ہیں لیکن اگر آپ غور کریں تو سعودی عرب کی توجہ کا مرکز صرف پاکستان اور ہندوستان کے مسلمان ہیں۔ بطور ریاست عرب دنیا سے باہر وہ صرف پاکستان کے لئے اپنے خزانوں کا منہ کھولتے ہیں اور جو مانگا جاتا ہے جتنا مانگا جاتا ہے وہ دیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے پاکستان اپنی اشد ضرورت کے موقع پر ہی مانگتا ہے۔ جب تک سعودی عرب موجود ہے دنیا کی کوئی معاشی پابندی پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور یہ بات امریکہ بہت اچھی طرح جانتا ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کی جو علانیہ مدد آج تک کر رکھی ہے وہ اس کی خفیہ مدد کا بمشکل دس فیصد ہے۔ چونکہ پاکستان کو معاشی تباہی سے بچانے کا ذمہ سعودی عرب اپنے ذمے لے چکا ہے اور دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر زمیں بوس نہیں کیا جا سکتا اس لئے جوابا سعودی عرب کا عسکری دفاع پاکستان اپنے ذمے لے چکا۔ یوں سعودی ہمارا معاشی اور ہم سعودیوں کا عسکری دفاع کرتے ہیں اور یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔

(ب) جب چین میں انقلاب برپا ہوا تو یہ کمیونسٹ انقلاب تھا اور پوری دنیا منہ میں انگلیاں دیے سکتے کی حالت میں تھی کہ اسے قبول کریں یا رد کریں ؟ اس سکتے میں جدید چین کو تسلیم کرنے والی جو پہلی آواز بلند ہوئی وہ پاکستان کی تھی۔ اس جدید چین کے کسی ایئرپوٹ پر جو پہلی بین الاقوامی پرواز اتری وہ پی آئی اے تھی۔ دنیا نے ہم سے چینوں کے بارے میں رائے مانگنی شروع کی کہ دکھتے کیسے ہیں ؟ سوچتے کیسے ہیں ؟ بولتے کیسے ہیں اور پیش کیسے آتے ہیں ؟ دھیرے دھیرے باقی دنیا بھی انہیں قبول کرنے لگی اور اس میں ہمارے دفتر خارجہ کا کلیدی کردار تھا۔ پھر وہ وقت آیا کہ امریکہ نے اس جدید چین سے تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ بھی ہمارے ہی پاس آیا کہ پلیز چین سے ہمارا مصافحہ کروایئے نا ! پاکستان نے بیک ڈور ڈپلومیسی شروع کی اور چین سے امریکہ کے تعلقات قائم کروا دیے۔ اس ابتدائی عرصے میں دنیا بھر سے چین کے رشتے استوار کروانے میں پاکستان کردار اتنا بڑا ہے کہ چینی اسے بھلائے نہیں بھولتے۔ چین میں عوامی استقبال صرف ایک ہی بین الاقوامی سربراہ کا ہوا ہے جو ذوالفقار علی بھٹو مرحوم ہیں۔ ایک ایسا استقبال جس میں بیجنگ کی سڑکوں کے اطراف کھڑے چینی عوام ہاتھ میں جھنڈیاں لئے پاک چین دوستی کے نعرے بلند کرتے رہے۔ چین کے لئے پاکستان کی ان خدمات کا جواب چین کی جانب سے یوں دیا گیا کہ نہ صرف اس نے پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری شروع کی بلکہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط کرنے کے لئے دفاعی پیداوار کے شاندار ادارے بھی کھڑے کردیے۔ آج ہم نہ صرف ٹینک اور بکتر بند بنا رہے ہیں بلکہ چین کی مدد سے ہی عسکری طیارہ سازی کے ساتھ ساتھ نیول شپس بھی بنا رہے ہیں جبکہ میزائل پروگرام میں انکی مدد تو کھلا راز ہےجس سے ہم آلات حرب میں خود کفیل ہوتے جا رہے ہیں۔ آپ جانتے ہیں امریکہ جب کسی ملک کو برباد کرنے لگتا ہے تو پہلے اس پر پابندیاں لگاتا ہے اور اسکے بعد اقوام متحدہ کی قرار داد کے سہارے اس پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ امریکہ یہ حکمت عملی پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کر سکتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر پاکستان کے خلاف اقوام متحدہ میں قرارداد لائی گئی تو چین اسے ویٹو کرنے میں ایک منٹ کی بھی تاخیر نہیں کرے گا۔ جس طرح مشرق وسطیٰ میں اسرائیل امریکہ کی ناک کا بال ہے اسی طرح جنوبی ایشیا میں پاکستان چین کی ناک کا بال ہے۔

پاکستان آج کل بہت تیزی سے سعودی عرب کے چین سے تعلقات اسی سطح تک لے جانے کے مشن پر کام کر رہا ہے جس سطح کے پاک چین تعلقات ہیں اور ایسا موجودہ سعودی قیادت کی خواہش پر کیا جا رہا ہے کیونکہ انہیں سمجھ آ گیا ہے کہ صرف امریکہ پر انحصار ایک مہلک غلطی تھی۔

عرب ممالک

ـــــــــــــــ
سوویت یونین کے دور میں عالم اسلام بھی دو بلاکوں میں بٹا ہوا تھا۔ انقلاب سے قبل کا ایران تو کیپٹل بلاک میں تھا لیکن انقلاب کے بعد کا ایران کمیونسٹ بلاک میں رہا۔ اسی طرح عراق شام، مصر، لیبیا اور جنوبی یمن بھی کمیونسٹ بلاک میں رہے۔ سعودی عرب، کویت، اردن، عرب امارات اور شمالی یمن کیپٹل بلاک میں رہے۔ پاکستان چونکہ خود بھی کیپٹل بلاک میں رہا اس لئے کیپٹل بلاک کے عرب ممالک سے تو اس کے تعلقات بہت مضبوط رہے لیکن کمیونسٹ بلاک کے ممالک کا معاملہ عجیب تھا۔ صدام حسین کو پیپلز پارٹی کے دور میں پاکستان اچھا لگتا تھا جبکہ دیگر ادوار میں برا۔ وہ سیاست میں پیپلز پارٹی کی مالی مدد تو کرتا تھا لیکن پاکستان میں دہشت گردی کبھی نہیں کروائی البتہ کراچی میں 1984ء میں بننے والی سواد اعظم نامی تنظیم کے پیچھے اسی کا ہاتھ جسے پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے ایک سال کے اندر اندر لپیٹ دیا تھا۔ کچھ یہی معاملہ قذافی کا بھی تھا لیکن قذافی نے جنرل ضیاء کے دور میں دہشت گردی کی کوشش بھی کی۔ 80 کی دہائی کا مشہور ہتھوڑا گروپ قذافی ہی کا ڈھکوسلہ تھا۔ مصر کو پاکستان کبھی بھی اچھا نہیں لگا لیکن اس نے کوئی دشمنی بھی نہیں کی۔ پاکستان سے اس کے خار کی بنیادی وجہ جو مجھے سمجھ آتی ہے وہ جماعت اسلامی ہے جو اخوان المسلمین کی دودھ شریک بہن ہے۔ شام نے پاکستان سے عسکری تعلقات بھی رکھے لیکن تھوڑا فاصلہ بھی رکھا ایک طرف پاکستان ایئر فورس کے پائلٹوں کی جنگ میں خدمات اور ان سے تربیت بھی حاصل کی دوسری طرف الذوالفقار کی ہائی جیکنگ میں بھی ملوث نظر آیا۔ پاکستان نے ہمیشہ ان عرب ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات بنائے رکھنے کی کوشش کی اور کبھی ایسی کوئی حرکت نہیں کی جس سے کمیونسٹ بلاک کے ممالک کو ناراضگی ہوئی ہو۔
انکے نزدیک انسان کی بنیادی ضرورتیں تین ہیں۔ اچھی شراب، اچھی عورت اور اچھی مسجد۔ اب چونکہ یہ تینوں چیزیں انہیں وافر دستیاب ہیں تو وہ سوچتے ہیں کہ عالم اسلام تاریخ کے ترقی یافتہ ترین دور میں ہے۔
دونوں جانب کے برادر اسلامی ملکوں سے تعلقات استوار رکھنے میں سنجیدگی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ 1967ء اور 1973ء کی عرب اسرائیل جنگوں میں پاک فضائیہ کے پائلٹوں نے بھی حصہ لیا۔ پہلی جنگ میں پاکستان کے پائلٹ مصر، اردن اور شامی فضائیہ کی طرف سے لڑنے گئے ان میں سے اردن کیپٹل بلاک جبکہ مصر اور شام کمیونسٹ بلاک کے ممالک تھے۔ اس جنگ میں لڑتے ہوئے پاکستانی پائلٹوں نے دس اسرائیلی طیارے مار گرائے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ پاکستانی پائلٹ اس کے صرف تین طیارے گرانے میں کامیاب رہے تھے۔ دوسری عرب اسرائیل جنگ میں پاک فضائیہ کے پائلٹ ایک بار پھر ان تینوں ملکوں میں پہنچے۔ پاکستانی پائلٹ مصر پہنچے تو مصر جنگ بندی کا اعلان کر چکا تھا البتہ اردن اور شام ابھی حالت جنگ میں تھے۔ ان دونوں ممالک کی جانب سے لڑتے ہوئے پاکستانی پائلٹوں نے پانچ اسرائیلی طیارے گرائے۔ ان میں سے بالخصوص فلائٹ لیفٹنٹ عبد الستار علوی کو شام نے ہیرو ڈیکلیئر کیا اور ایوارڈ سے بھی نوازا۔ جنگ کے اختتام پر شام نے ان پاکستانی پائلٹوں کی خدمات اپنی فضائیہ کی ٹریننگ کے لئے طلب کر لیں جسے پاکستان نے منظور کر لیا یوں یہ پائلٹ 1976ء تک شام میں رہے۔ پاک فضائیہ اور شامی فضائیہ کے تعلقات کا پاکستان کو یہ فائدہ ہواکہ شامی فضائیہ کے پاس رشین طیارے تھے چونکہ انڈین ایئرفورس بھی رشین طیاروں پر مشتمل تھی تو پاک فضائیہ کے پائلٹ ان طیاروں پر بھی دسترس حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جس سے ان طیاروں کی تمام خوبیاں اور خامیاں ان کے علم میں آگئیں جو جنگ کے موقع پر کار آمد ہوتیں۔ اس زمانے میں پاکستان واحد ملک تھا جس کی فضائیہ امریکی و فرانسیسی ہی نہیں بلکہ رشین طیاروں کی مہارت سے بھی لیس تھی۔
مجموعی طور پر اگر ہم دیکھیں تو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا رجحان عرب ممالک کے لئے یکساں احترام کا رہا ہے لیکن ان میں سے صرف سعودی عرب ہے جس نے پاکستان کے ساتھ مخلص سگے بھائی جیسا غیر متزلزل تعلق رکھا ہے جبکہ دیگر عرب ممالک کا رویہ پاکستان سے سوتیلوں بھائیوں جیسا رہا ہے ان میں سے بعض تو برادران یوسف بھی ثابت ہوتے رہے ہیں لیکن پاکستان نے جوابا انہیں سبق سکھانے کی کوشش کبھی نہیں کی بلکہ اس بڑے بھائی کا کردار ادا کیا جو کہدیتا ہے "چلو خیر ہے چھوٹا ہے" ان تمام ممالک سے تعلقات ہر حال میں ٹھیک رکھنے کی کوشش کے پیچھے یہ سوچ کار فرما ہے گریٹر اسرائیل کی راہ روکنے کی ذمہ داری پاکستان ہی کو نبھانی ہے اور دفاعی ضرورت کے پیش نظر ان میں سے کسی بھی ملک میں جنگ کے موقع پر جانا پڑ سکتا ہے لھذا ان سے تعلقات اس سطح کے رکھے جائیں کہ ایمرجنسی میں نہ انہیں بلانے میں ہچکچاہٹ ہو اور نہ پاکستان کو جانے میں۔ عربوں کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ متوازن سماج کی اہمیت سے قطعی نا بلد ہیں۔ علمی و سائنسی ترقی کی دور دور تک کوئی سوچ نہیں پائی جاتی۔ انکے نزدیک انسان کی بنیادی ضرورتیں تین ہیں۔ اچھی شراب، اچھی عورت اور اچھی مسجد۔ اب چونکہ یہ تینوں چیزیں انہیں وافر دستیاب ہیں تو وہ سوچتے ہیں کہ عالم اسلام تاریخ کے ترقی یافتہ ترین دور میں ہے۔ ان کی انہی احمقانہ حرکتوں کے نتیجے میں امریکہ اور برطانیہ انہیں رج کے لوٹ رہے ہیں اور اسرائیل خود کو دن بدن گریٹر اسرائیل بنانے کی پوزیشن میں لا رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اسرائیل کی پیش قدمی روکے رکھنے کے لئے بھی پاکستان ہی کو تدبیریں کرنی پڑتی ہیں۔ نام نہاد امن پسند کہہ سکتے ہیں کہ اگر اسرائیل گریٹر اسرائیل بنتا ہے تو بنے، ہمیں اس سے کیا غرض ؟ اس پر اگلی قسط میں تفصیل سے روشنی ڈالونگا اور واضح کرونگا کہ پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی میں اس کے چار دشمن ممالک کی فہرست میں اسرائیل نمبر ایک اور بھارت نمبر تین پر کیوں ہے ؟
از رعایت اللہ فاروقی 

تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

4 تبصرے:

  1. کیاخوب معلومات فراہم کی ہیں۔یہ مصنف کون ہیں

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. عایت اللہ فاروقی مصنف ہیں اور کالم نگار بھی ہیں

      حذف کریں
  2. بائی جان پوری کتاب کا لنک دیں۔
    اور آج کل کوئی مانتا ہی نہیں کہ عرب ممالک ہمارے دشمن ہیں

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. آپ پہلے مکمل اقساط پڑھ لیں اس کے بعد ہی کوئی تبصرہ فرمائیں

      حذف کریں

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار