شداد کی جنت 2015 میں (ظفر جی کے قلم سے ) آخری حصہ

شداد کا تعلق قومِ عاد سے تھا اور وہ عدن کی اِرم نام کی بستی کا رہنے والا تھا۔ وہ بستی بڑے بڑے ستونوں والی تھی۔
یہ لوگ عاد بن عوض بن اِرم بن سام بن نوحؑ کی اولاد میں سے تھے۔ ان کے دادا کی طرف منسوب کرکے ان کو عادِ اِرم بھی کہا جاتاہے۔ ان کا وطن عدن سے متصل تھا-
شداد نے سطح سمندر پر ڈولتے ایک تختے پر آنکھ کھولی- اس کی ماں جو ڈوبتے ہوئے جہاز سے بچ کر تختے پر زندگی کی جنگ لڑ رہی تھی... ، اسے زندگی بخش کر فوت ہوگئ-
یہ تختہ اس بدنصیب بچے کو لئے سمندر میں ڈول رہا تھا کہ ایک مچھیرے کی نظر میں آگیا- وہ اس ننھے منے بچے کو اٹھا کر گھر لے آیا اور اپنے جگر گوشے کی طرح اس کی پرورش کرنے لگا-
اس دور میں بینک نہیں ہوا کرتے تھے -لوگ جنگ و جدل یا ہجرت کی صورت میں اپنے قیمتی اسباب زمین میں دفن کردیا کرتے تھے- شّداد بارہ برس کا ہوا تو اس پر منکشف ہوا کہ قدرت نے اسے زیرزمین بینکوں کا اے ٹی ایم کارڈ دیکر دنیا میں بھیجا ہے - اپنی خداداد صلاحیّت کے طفیل وہ زمین میں مدفون خزانوں کی ٹھیک ٹھیک نشاندہی کر سکتا تھا -
اس نے اپنی اس صلاحیت سے خوب فائدہ اٹھایا اور امیر سے امیر تر ہوتا چلاگیا- دولت آنے کے بعد طاقت کا بھوت سوار ہوا تو اپنے لشکر بھرتی کرنےلگا- پہلے اپنی قوم کا سردار بنا پھر آس پڑوس کی ریاستوں پر ہاتھ صاف کرنے لگا-
دنیا کے کئی بادشاہ اسے باقاعدہ بھتہ دیتے تھے۔ کسی میں اتنی جرأت و طاقت نہ تھی کہ اس کا مقابلہ کرسکے۔ اس تسلط اور غلبہ نے شداد کو اتنا مغرور و متکبر کردیا کہ وہ خدائی کا دعویٰ کربیٹھا۔
حضرت ہُودؑ ، جو وقت کے پیغمبر تھے انہوں نے شداد کو سمجھانے کی بہت سعی کی - لیکن شداد بھلا کس کی سنتا تھا- پیغمبر نے اسے سمجھایا کہ اللہ کے عذاب سے ڈر...اور خدائے واحد کی عبادت کر -
شداد نے جواب دیا " سائیں !!! دولت ، طاقت اور عزت تو پہلے ہی موجود ہے ... خدا کی عبادت کر کے کیا کروں گا ؟؟؟
اسے بتایا گیا کہ دنیاوی حکومت ،دولت اور جاہ وجلال ایک فانی چیز ہے جبکہ اللہ کی اطاعت میں اُخروی نجات اور جنت کا حصول ہے جو دنیا کی ہر دولت سے بہتر اور زیادہ قیمتی ہے۔
بھوکی ننگی عوام گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگا رہی تھی...."ملک شدّاد قدم بڑھاؤ....قوم تمھارے ساتھ ہے"
شداد نے پوچھا، یہ جنّت کیا ہوتی ہے؟؟
پیغمبر نے اس کے سامنے جنت کی جملہ صفات کا نقشہ کھینچا - دودھ اور شہد کی نہریں ، بے جوڑ موتی کے محل ، حوروغلمان کا تزکرہ، ہمیشہ کی پاکیزہ زندگی-
شداد نے کہا ”مجھے اس جنّت کی ضرورت نہیں ایسی جنّت تو میں خود دنیا ہی میں بنا سکتا ہوں۔“
وہ واقعی سنجیدہ تھا- اس نے دنیا بھر سے ڈیزائنرز ، آرکیٹیکچر اور انجینئرز اکٹھے کرنے شروع کردیے تاکہ ایک میگا پراجیکٹ کی بنیاد رکھی جا سکے-
آج اس میگا پروجیکٹ کا افتتاح تھا- پیغمبر ع صالحین کی جماعت کو ساتھ لیکر ارم بستی سے دور چلے گئے-
ایک سرخ رنگ کا فیتہ جنّت کے دروازے پر بندھا ہوا تھا-ایک خادم بابِ بہشت پر ایک نقرئ تھال لیکر کھڑا تھا جس میں خالص سونے کی بنی ہوئ ایک قینچی رکھی تھی-
بھوکی ننگی عوام گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگا رہی تھی....
"ملک شدّاد قدم بڑھاؤ....قوم تمھارے ساتھ ہے"

شداد نے وزراء و امراء کی طرف دیکھ کر کہا " یہ جنّت تمھاری ہے...تم ہو پاسباں اسکے"
پھر وہ عوام سے مخاطب ہوا " کام ...کام ...اور صرف کام"
پرزور تالیوں کی گونج میں اس نے باغ ارم کا فیتہ کاٹا-
اس نے ابھی دائیاں پاؤں جنت میں دھرا ہی تھا کہ اچانک اس سینے میں بائیں جانب زور کا درد اٹھّا اور وہ چکرانے لگا-پچھلے کئ ہفتوں سے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے اس کی تیزی سے بند ہوتی شریانوں پر متفکر تھی-
ہارٹ اٹیک....ایمرجنسی.....
فضاء ایمبولینس کے سائرن سے گونج اٹھی- شداد کو عدن کے سب سے بڑے ھسپتال لے جایا گیا لیکن وہ تو کب کا مر چکا تھا-
اسی رات ریت کا طوفان آیا- اتنی شدید ہوا چلی کہ لوگوں کے پاؤں تک اکھڑ گئے-سات دن مسلسل یہ طوفان جاری رہا-
شدّاد کے ساتھ ساتھ اس کی بےحس قوم بھی غرق ہو گئ-
کئ سال بعد عراق اور دیگر ریاستوں کے کچھ وفود باغ ارم دیکھنے کی جستجو میں عدن پہنچے تو وہاں سوائے ریت کے ٹیلوں کے کچھ نہ تھا-
عدن کے لوگ اب بھی آدھی رات کو صحرا میں پراسرار روشنی دیکھتے ہیں- بہت سوں کا خیال ہے کہ یہ اسی سونے کی چمک ہے جس سے کبھی باغ ارم کو سجایا گیا تھا-

تحریر کو شئیر کریں

فیس بک تبصرے

0 comments:

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے۔قاری کا نظریہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسلئے بلا وجہ بحث سے گریز کی جائے۔
منجانب حافظ محمد اسفند یار